Saturday, March 3, 2018

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
مجھے نہیں معلوم کسی کو مجھ سے مسئلہ ہے یا نہیں ۔ہاں مجھے اتنا معلوم ہے۔کہ مجھے کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ۔اور ہو بھی کیوں ؟
شاعر تو محبتوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ سو محبتوں کے راستوں سے نفرتوں کا کیا گزر۔
میرے اطراف ڈھیروں مواقع تھے اور ہیں ۔ لیکن میں نے شاعری کا انتخاب کیا۔ کچی پکی، سچی جھوٹی،چھوٹی بڑی(کسی کی بھی نظر میں ) جیسے بھی کی
ہوش سنبھالنے سے اب تک شاعری ہی کی۔ اور کم و بیش بیس برس تو مختلف فورمز پر بطور شاعر اظہار کرتے ہو گئے ۔ان بیس برسوں میں کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
جہاں تک مجھے یاد ہے ۔میں آج تک کسی سے دست و گربیاں نہیں ہوا، سوائے اپنے آپ کے، کسی پر جملہ نہیں کسا، کسی پر انگلی نہیں اٹھائی، جس سے ملا،محبت سے ملا۔
کوئی ایک قدم میری جانب آیا۔ تو دس قدم اس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔اگرکوئی آیا، آ کر چلا بھی گیا ۔ تو دل دروازہ بند نہیں کیا۔
اسی جگہ انتظارکیا۔ جب مرضی لوٹ آئے۔
مجھے اکثر سننے کو ملتا ہے ۔ کہ فلاں یہ کہہ رہا تھا ۔فلاں وہ کہہ رہا تھاوغیرہ وغیرہ۔ مگر میں سن کر ایک ہی بات کہتا ہوں ۔کسی کے کہنے سے کیا ہوتا ہے.  تاریخ گواہ ہے ۔ سیکڑوں کردار، جنہیں کوئی تسلیم نہیں کرتا تھا۔وہ امر ہوگئے اور جنہیں سب تسلیم کرتے تھے۔ وہ کہیں نہیں ہیں۔
اور بائی دا وے مجھے تو یہ بھی چاہ نہیں کہ تسلیم کیا جاﺅں۔ میں تو بس جو دیکھتا ہوں سوچتا ہوں اسے کاغذ کے سپرد کر دیتا ہوں. بس یہ سوچ کر کہ میں تو بس محبتیں بانٹنے نکلا ہوں۔سو بانٹتا رہوں گا۔ کوئی تسلیم کرے یا رد۔
لکیریں کھینچ کر ایسا کوئی نقشہ بناؤں گا
جہاں دیوار اٹھے گی  وہیں رستہ بناؤ ں گا
اور ویسے بھی اس کائنات پر ہمارے وجود سے پہلے، اچھائی ہی اچھائی، محبت ہی محبت تھی۔ جہاں اچھائی میں بگاڑ پیدا ہوا، وہیں برائی کا جنم ہوا۔
اور جہاں محبت میں بگاڑ پیدا ہوا، وہیں نفرت نے سر اٹھانا۔چھوڑو یار، نفرتیں مٹاﺅ محبتوں کے چراغ جلاﺅ۔

No comments:

Post a Comment