"فدک عقل نہیں، ضمیر کا معاملہ ہے"
۔
غدیر یا امامت و خلافت پر علمی دلائل دیئے جاسکتے ہیں، ایک دوسرے کے موقف کے مقابل اپنی دلیل قائم کی جاسکتی ہے اور اپنے اپنے نظریہ کو درست ثابت کرنے کیلئے تاریخ، حدیث اور قران سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ان سب کے بعد دونوں فریق چاہیں تو اپنے اپنے نظریہ پر قائم رہتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس موضوع پر دلائل دینے والے دونوں فریق ایکد دوسرے کی عقلوں کو اپیل کرتے ہیں۔
۔
فدک کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں معاملہ ضمیر کا ہے اور ضمیر کی مار بہت ظالم ہوا کرتی ہے۔ فدک عقل کو تو بعد میں اپیل کرتا ہے، یہ سب سے پہلے ضمیر کو اپیل کرتا ہے۔ یہ سیدہؑ کا انتظام ہے، کوئی مانے یا نہ مانے۔
شیعوں کو تو ایک سائیڈ پر رکھ دیجئے، میں نے نے لاتعداد سنیوں کو دیکھا ہے جو نبوت کے بعد خلافت کے قائل ہیں لیکن فدک کے معاملے پر ہاتھ باندھ کر اور سر جھکا کر بارگاہ سیدہؑ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ رسولِ خدا(ص) کی بیٹی خاتونِ جنت سیدہ سلام اللہ علیھا کا معاملہ ہے۔ سیدہؑ "خدا کی قسم، میں جھوٹ نہیں بولتی" کہہ کر عقل نہیں، ضمیر کو اپیل کرتی ہیں۔ آئیں اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہوکر خود کو مطمئن کر لیں۔ میں نے کچھ لوگوں کا ذکر سُن رکھا ہے جو لگاتار دلائل دیتے رہے لیکن بلاخر ضمیر کی عدالت میں پیش ہوکر ہاتھ باندھ کر واپس آگئے۔
رہ گئی بات شیعوں کی تو ہم حقِ سیدہؑ کے ساتھ تھے، ہیں اور اسی کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
۔
نوٹ: مجھ خاکسار کی فہم کے مطابق فدک شیعہ سنی مسئلہ نہیں رہ گیا، البتہ اس معاملے پر ایک "سفاکانہ" موقف اختیار کرنے والا طبقہ بہرحال موجود ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو کبھی شہادتِ امام علیؑ کے ایام میں امیرِ شام کے فضائل پڑھتا نظر آتا ہے اور کبھی واقعہ کربلا میں یزیدِ ملعون کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ وگرنہ زندہ ضمیر والوں کیلئے فدک بڑا جذباتی معاملہ ہے۔ چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی۔
Tuesday, February 13, 2018
"فدک عقل نہیں، ضمیر کا معاملہ ہے"
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment