پہلے وہ شخص مرے کام کا تھا
اُس نے پھر تم سے عداوت کر لی
ایک ہی شخص بُرا لگتا تھا
تم نے اُس سے بھی محبت کر لی
شہباز مہتر
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے
کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی
اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے
ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں
ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے
معراج فیض آبادی
مجھے یہ ڈر ھے ، تیری آرزو نہ مِٹ جائے
بہت دِنوں سے ، طبیعت میری اُداس نہیں
"ناصر کاظمی"
کسی کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں اکثر
اکیلے پن میں بڑے دھیان جایا کرتے ہیں
جمال ہم تو تجھے یہ بھی اب نہیں کہتے
کبھی کسی کا کہا مان جایا کرتے ہیں
جمال احسانی
No comments:
Post a Comment