مسئلہ فلسطین کو سمجھے بغیر اسرائیل کے جبر کو نہیں سمجھا جاسکتا، 1993 میں اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین کے درمیان ایک اوسلو معاہدہ ہوا جس میں دوریاستی حل کو قبول کرتے ہوئے اسرائیل نے فلسطین کے وجود کو قبول کیا اور فلسطین نے اسرائیل کے وجود کو قبول کرلیا-
اسرائیل اور فلسطین بطور ریاست ایک دوسرے کو 1993 میں قبول کرنے کے بعد 1995 میں ایک بار پھر ساتھ بیٹھے اور دونوں ریاستوں نے اتفاق کے ساتھ حکومت کرنے کا طریقہ وضع کیا جسے فلسطین اتھارٹی کہا جاتا ہے جبکہ ریاستوں کی حد بندی کے حوالے سے پانچ سال بعد بات چیت کا ایک اور دور چلانے پر اتفاق کیا گیا جو آج تک ممکن نہ ہوسکا تاہم فلسطین اتھارٹی اس معاہدے کے تحت فلسطین پر حکومت کررہی ہے جبکہ اوسلو معاہدے کی مخالف حماس بھی اس معاہدے کے تحت بننے والے حکومتی سیٹ اپ کا حصہ رہی ہے-
اوسلو معاہدے کے مطابق اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ کئے گئے فلسطینی علاقے چھوڑ کر اپنی پہلے والی پوزیشن پر جانا ہوگا اور اسرائیل نے اس شرط پر عملدرآمد نہیں کیا، اگر اسرائیل ایسا کرتا ہے تو مشرقی یروشلم جہاں مسلمانوں کا بیت المقدس، یہودیوں کی دیوار گریہ اور مسیحوں کا کلیسا مقدس مقبرہ واقع ہے، اس علاقے کو فلسطین اتھارٹی کے حوالے کرنا ہوگا، جس سے سارا تنازع ختم ہوجائے گا-
اسرائیل کے یہودی انتہاپسند اور فلسطین کے اسلامی انتہاپسندوں نے اوسلو معاہدے کی مخالفت کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلامی انتہاپسند نوے لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے ملک اسرائیل کے ہر شہری کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں اور اسرائیل چالیس لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے ملک فلسطین کے ہر شہری کو یا تو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے یا ان کو بیدخل کرکے ان کی جگہ یہودی آبادکاری کرنا چاہتا ہے، یہ دونوں انتہاپسندانہ حل ہیں، ان پر عمل ہونا ناممکن ہے، دوریاستی حل ہی اس سارے تنازع کو ختم کرسکتا ہے-
اوسلو معاہدے کے وقت اسرائیل کا وزیراعظم اسحاق رابن تھا جسے تل ابیب میں ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے یہودی انتہا پسند ایگال عمیر نے قتل کردیا تھا اور اس قتل کی وجہ یہ بتائی تھی کہ اوسلو معاہدے میں اسرائیل نے فلسطین کو قبول کیا ہے، اسی طرح تنظیم آزادی فلسطین کی جانب سے اوسلو معاہدے کے دوسرے کردار یاسر عرفات کی طبعی موت کی وجہ بھی زہر بتائی جاتی ہے، جس طرح اسلامی انتہاپسند ایک خودساختہ اسلامی ریاست کے قیام کا نعرہ لگاتے ہیں، اسی طرح موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نینتن یاہو نے ایک "یہودی ریاست" کا نعرہ لگارکھا ہے، اس یہودی انتہاپسند وزیراعظم سے کوئی پوچھے کہ کیا یہ ریاست لاکھوں انسانوں کی قبروں پر بنے گی!! انتہاپسند کسی بھی مذہب کا ہو، ان کے پاس سوالوں کے جواب نہیں ہوتے-
عثمان غازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
copied.
اسرائیل پر گرنے والے راکٹوں کا جشن ضرور منائیں لیکن ایک لمحے کو رک کر یہ ضرور سوچیں کہ جو ممالک حماس کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، وہ کھل کر اسرائیل کے سامنے کیوں نہیں آتے؟ یہ راکٹ ملیشیا کی بجائے کسی ملک کی باقاعدہ آرمی اسرائیل پر کیوں نہیں فائر کرتی؟ اب آپ شاید سوچنے لگیں کہ اگر حماس کے ذریعے اسرائیل کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے تو باقاعدہ آرمی کے ذریعے اسرائیل کا مقابلہ کرنا کیوں ضروری ہے؟
یہ فرق اگلے کچھ دنوں میں آپ کو اچھی طرح سمجھ آ جائے گا جب، خاکم بدہن، اسرائیل پوری قوت سے غزہ پر چڑھ دوڑے گا. خون ِمسلم اس روانی سے بہے گا کہ جس پروفائل سے آج خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں، وہی عالمی برادری سے رحم کی اپیلیں کر رہے ہوں گے. اس لیے کہ ملیشیا، باقاعدہ فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی. اسرائیل کے جیٹ طیاروں کو روکنے کے لیے، جیٹ طیارے ہی چاہئیں. اسے پیچھے دھکیل کر القدس واپس لینے کے لیے ٹینک اور توپوں سے لیس وہ آرمی چاہیے جو گوریلا کاروائی پر اکتفاء نہ کرے بلکہ باقاعدہ علاقے کو 'کلئیر' کرے.
یہ سمجھ لیں کہ پیچھے بیٹھ کر ملیشیا کے ذریعے ہلکی پھلکی کاروائیاں کرنا اور محض منہ کی فائرنگ سے عالمی سطح پر سپورٹ کرنا، کسی علاقے کو آزاد کرانے کی سٹریٹجی نہیں ہے بلکہ علاقے میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے اور قابض فوج کو انگیج رکھنے کا طریقہ ہے. اس کی بہت بھاری قیمت مقبوضہ علاقے میں بسنے والوں کو ادا کرنی پڑتی ہے. ہر گوریلا کاروائی کے بعد، قابض فوج بدمست ہاتھی کی طرح ان علاقوں پر پوری قوت سے چڑھ دوڑتی ہے اور مکینوں کو پیس کر رکھ دیتی ہے. اللہ کرے کہ فلسطین میں ایسا نہ ہو اور میرا خدشہ بالکل بےبنیاد ثابت ہو.
لہٰذا مسلم افواج سے مطالبہ کیجیے کہ وہ متحرک ہوں. اتنی بڑی بڑی افواج اور دنیا جہاں کا اسلحہ اگر القدس کو آزاد نہیں کرا سکتا تو بھلا کس کام کا ہے. گروہوں کے ذریعے کاروائیاں ہرگز کافی نہیں. ریاست ہی ریاست کا مقابلہ کرتی ہے.
اللہ فلسطین کے بہادر مسلمانوں کی مدد فرمائے جو حتی المقدور کوشش کرتے ہوئے اسرائیل کا مقابلہ کر رہے ہیں. آمین.
از قلم - عجیب سین ہے بھائی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگ کے دوران کبھی بھی عام آدمی کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، عام آدمی نہتا ہوتا ہے، اسے پیشہ ور لڑائی کی تربیت نہیں ہوتی اور اگر ایسا عام آدمی جو کسی جنگ میں ایک عسکری گروہ کا زبردست حامی بھی ہو، اس وقت بھی اسے جنگ میں نشانہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ وہ سویلین ہے-
اور اگر جنگ کے دوران عام شہریوں کو قتل کیا جائے تو یہ نہ صرف جنگی جرائم کی فہرست میں شامل ہے بلکہ یہ جنگی اخلاقیات کے بھی منافی ہے اور اس وقت حماس اور اسرائیل کے دستے عام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں، اسرائیل نے ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملہ کردیا اور اس حملے میں 10 بچے شہید ہوگئے، جواب میں حماس نے تل ابیب کے گھروں پر ایک ہزار سے زائد راکٹ برسادئیے، ایسا ہی ایک راکٹ ایک 80 سالہ بوڑھی بیمار یہودی خاتون کے گھر آکر گرا جس سے وہ زخمی ہوگئیں اور ان کی 30 سالہ ملازمہ ماری گئی-- یہ کوئی جنگ نہیں ہے، یہ دونوں جانب سے ہونے والی سفاکیت ہے، یہ جنگی تاریخ کی بدترین مثالیں ہیں-
اسرائیل ایک مذہبی انتہاپسند ناجائز ریاست ہے، جو ہٹ دھرمی اور جبر سے مشرقی یروشلم پر قبضے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، حماس بھی ایک مذہبی انتہا پسند گروہ ہے جس کی کوئی اخلاقیات نہیں اور ان دونوں کی انتہاپسندی کے بیچ میں مظلوم فلسطینی پِس رہے ہیں جن میں شیخ جراح کی مسلمان آبادی ہی نہیں بلکہ حارۃ الارمن کی مسیحی آبادی بھی ہے، ان سب کو اسرائیل کی جانب سے بیدخلی کا خطرہ ہے مگر اسرائیل اور حماس اس سارے معاملے کو ایک مذہبی جنگ بنانے پر تلے ہیں اور سعودی عرب، ایران کی طرح دیگر مذہبی ریاستیں مختلف صورتوں میں اس اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہیں-
فلسطین میں غزہ کی پٹی اصل مسئلہ نہیں ہے بلکہ غزہ کی پٹی پر جنگ کے شعلے بھڑکا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جارہی ہے، اصل مسئلہ القدس یعنی مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی آبادی کے انخلا کے معاملے کو روکنا ہے، حماس اور اسرائیل کے راکٹ حملوں کے دوران بھی مشرقی یروشلم سے فلسطینیوں کی آبادی کے انخلا کی کوششوں کا عمل جاری ہے، غزہ میں جارحیت کو آڑ بنا کر اسرائیل اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھارہا ہے اور مذہبی انتہاپسند عناصر ۔۔۔ عرب ممالک کی طرح اس سلسلے میں اسرائیل کے معاون بنے ہوئے ہیں-
عثمان غازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ سننے کی ہمیں عادت نہیں ہے۔ تحقیق کرنے کا ہمارے پاس وقت نہیں ہے اور ملکہ جذبات بننے کا ہمارا شوق غالبا ڈی این اے میں لکھا گیا ہے۔
اسرائیل فلسطین تنازع میں آپ ذرا سی مختلف رائے پیش کریں تو یہی جذبات مغلظات میں ڈھل جاتے ہیں۔ دراصل جذبات اور مغلظات دونوں میں محنت نہیں لگتی اور اس کی کوئی قیمت بھی نہیں ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ کی بورڈ مجاہدین نے کبھی جماعت اسلامی کے القدس فنڈ میں پانچ روپے کا چندہ بھی نہیں ڈالا۔
اس بات میں بھی کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی ننانوے فی صد اکثریت صیہونیت اور یہودیت کا فرق بھی نہیں سمجھتی۔ انہوں نے کبھی بالفور ڈیکلریشن کا نام بھی نہیں سنا اور یہ عرب اسرائیل جنگوں کے تناظر سے بھی مکمل ناواقف ہیں۔
پہلی بات تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ تنازع یہودیت اور اسلام کا نہیں بلکہ صیہونیوں اور ان عربوں کا ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد عیسائی عربوں کی بھی ہے۔ یہ ظلم مسلمانوں پر نہیں ، عرب فلسطینیوں پر ہو رہا ہے۔ یہ بھی جان لیجیے کہ اسرائیل میں ایک ملین سے زائد مسلمان موجود ہیں۔ ان مسلمانوں سے لیے گئے رینڈم انٹریوز بھی یو ٹیوب پر مل جائیں گے جہاں ان مسلمانوں میں سے کوئی بھی فلسطین یا کسی عرب ملک ہجرت کو تیار نہیں تھا کیونکہ وہ اسرائیل میں زیادہ مطمئن، محفوظ اور خوشحال ہیں۔
چونکہ ہم ستر سال سے اس احساس کمتری کا شکار رہے کہ ہماری اپنی کوئی تاریخ نہیں اس لیے ہم اس عرب امپریلزم کے غلام بنتے گئے جس سے علامہ اقبال نے بھی ہوشیار رہنے کی تلقین کی تھی۔ یوں عرب دشمن ہمارے دشمن اور عرب دوست ہمارے دوست بنتے گئے۔ وہ الگ بات ہے کہ عربوں نے ہمیشہ ہمارے ساتھ ملازموں، مزارعوں اور کمیوں والا سلوک کیا لیکن ہماری غیرت اس معاملے میں ہمیشہ ہی خوابیدہ رہی۔
اسرائیل کے سفارتی تعلقات ترکی سے بھی ہیں اور کئی عرب ممالک سے بھی لیکن ہم اب بھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہوئے اس امر پر راضی نہیں کہ اسرائیل سے سفارت کاری کر سکیں حالانکہ لاکھوں کشمیریوں کی لاشوں پر کھڑے بھارت سے ہم نے سفارتی تعلقات کبھی منقطع نہیں کیے۔ لاکھوں ایغور مسلمانوں کو کونسنٹریشن کیمپوں میں رکھنے والا چین ہمارا بہترین دوست ہے۔ لاکھوں کرد مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار ترکی، عراق اور شام ہمارے لیے مقدس ہیں۔ اسرائیل سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کرنے والے اردن سے تو ہماری باقاعدہ رشتہ داری ہے۔ بلیک ستمبر پر فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والا قصاب اعظم ضیاء الحق ہمارا ہیرو ہے۔ اور تو اور پورا ملک امریکا کے ویزوں کے لیے تلا بیٹھا ہے جس کے ہاتھ پر لاکھوں افغان، عراقی اور شامی مسلمانوں کا خون ہے۔
1947 کی تقسیم کے بعد فلسطینی ریاست چوالیس فی صد تھی۔ اب 56 فی صد پر اسرائیل کیسے بنا، یہ ایک لمبی داستان ہے اور اس میں سب سے بڑے ذمہ دار خود فلسطینی تھے جنہوں نے اپنی زمینیں مہنگے داموں یہودی آباد کاروں کو بیچیں۔ لیکن اس کے باوجود صیہونیوں کا عرب زمینوں پر قبضہ یا زبردستی آباد کاری کسی بھی طرح جائز نہیں تھی۔ اس حوالے سے ایڈورڈ سعید کی کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔ ایڈورڈ سعید کی اسی حوالے سے ایک ویڈیو میں نے کچھ دن پہلے پوسٹ کی جسے کی بورڈ مجاہدین میں سے کسی نے دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔
کسی بھی دعوے کی بنیاد پر کسی بھی آباد کار کو اس کے گھر سے بے دخل کرنا ظلم تھا اور ظلم ہے۔ لیکن یہ ظلم تاریخ میں بار بار ہوتا رہا ہے۔ دور کیوں جاتے ہیں ، کیا ہمارے اپنے ہی اوکاڑہ میں یہ ظلم نہیں ہو رہا۔ خیر۔ چوالیس فی صد فلسطینی ریاست کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ تعلیمی، معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے آپ کو مضبوط بناتے ۔ عرب ریاستوں کے پاس پیسہ بھی موجود تھا جس سے ان کی اس ضمن میں امداد ہو سکتی تھی۔ لیکن یہ سب کرنے کے بجائے ایک نہی، دو نہیں، تین نہیں، سولہ دفعہ عرب ریاستوں نے اسرائیل سے جنگ چھیڑی ۔ ہر جنگ کے بعد اسرائیل کا رقبہ بڑھتا چلا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ وہی نصف خطے پر بنی فلسطینی ریاست سکڑ کر 10 فی صد کے قریب رہ گئی ہے۔
غزہ ، جو دنیا کا سب سے بڑا جیل خانہ ہے، اس کو محصور کرنے کا ذمہ دار اسرائیل سے زیادہ ہمارا برادر اسلامی ملک مصر ہے۔ کیا ہم مصر سے بھی سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
ایک طرف فلسطینیوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے دوسری طرف ان کے پاس اتنی رقم ہے کہ وہ ایک رات میں ایک سو تیس راکٹ اسرائیل پر برساتے ہیں اور پھر امید کرتے ہیں کہ اسرائیل چپ رہے گا ۔ اسرائیل کے صیہونی کارپردازوں کے ظلم کی حمایت تو ممکن ہی نہیں پر اپنے گریبان میں جھانکنا بھی ضروری ہے۔ حماس ہر رمضان میں اسرائیل پر ایسا ایک حملہ ضرور کرتی ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ آئرن ڈوم کی موجودگی میں ان کا حملہ بڑی حد تک ناکام رہے گا۔ اس کے بعد لامحالہ اسرائیلی جواب کے تناظر میں حماس پوری دنیا سے فنڈ اکٹھا کرتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر پیسے کا کھیل ہے جس میں قربانی مظلوم فلسطینیوں کی ہوتی ہے۔
ایک دوست شاکی نظر آئے کہ بائیں بازو کے نمائندہ فیض صاحب نے فلسطین پر اتنا کچھ لکھا پر آج بایاں بازو خاموش ہے تو عرض ہے کہ فیض صاحب لوٹس کے مدیر تھے اور وہیں سے تنخواہ لیتے تھے۔ روس کا اسرائیل سے اختلاف تھا۔ اور فیض صاحب کو تو فلسطین کے لیے لکھنا ہی تھا کہ وہ روس کی طرف کھڑے تھے۔ انہوں نے تو روسی جاسوسوں ایتھل اور جولیس روزنبرگ کا بھی نوحہ لکھا۔ لیکن کیا کبھی انہوں نے کشمیر پر فلسطین جیسی شاعری یا کسی امریکی جاسوس کا نوحہ بھی لکھا۔ 60 اور 70 کی دہائی کا بایاں بازو کمیونزم ، مارکسزم اور روسی بیانیے کا نقیب تھا اور وہیں سے اسرائیل مخالفت اور فلسطین حمایت کا بیج پھوٹا تھا۔ اسے بس امت یا انسانیت کا درد سمجھیں گے تو غلطی کریں گے۔ آج کا حقیقی بایاں بازو کسی ایک سوچ کا اسیر نہیں ہے اس لیے سرد حقائق کی بات کرتا ہے تو اسے انسانیت دشمن قرار دیا جاتا ہے۔
نام نہاد دایاں بازو حقائق کا جو پرچار کرتا ہے وہ اس ویڈیو سے ظاہر ہے جو نیچے لگائی گئی ہے۔ یروشلم ڈے پر ہونے والے جشن میں ایک درخت پر لگی آگ جو کہ آتش بازی کے باعث لگی وہ "مسجد اقصی میں لگی آگ اور یہودیوں کا اس پر جشن" کہہ کر نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی بلکہ ہمارے سارے چینلز پر بھی چلا دی گئی۔ ہمارے بزرگ مہر تو برسوں سے قبتہ الصخرۃ کی تصویر مسجد اقصی کہہ کر بیچ رہے ہیں۔ یہ بھی شاید کسی کو علم نہیں کہ مسجد اقصی کی تو تعمیر ہی رسول اللہ اور خلفائے راشدہ کے دور کے بعد کہیں 72-74 ہجری میں ہوئی۔ اسلام کے ابتدائی دور میں یہ مسجد موجود ہی نہیں تھی پر ہر کوئی یہ بتائے گا کہ یہ قبلہ اول ہے۔ تاریخ گئی بھاڑ میں
ہمارے کی بورڈ وارئیر لاکھوں کرد مسلمانوں کی نسل کشی، لاکھوں ایغور مسلمانوں کی تباہی اور یمن میں بھوک سے مرتے بچوں پر بھی نظر کریں۔ حماس کی بدمعاشی، ایران اور سعودیہ کی فلسطین میں لڑی جانے والی پراکسی وارز کو بھی سمجھیں۔ اسرائیل میں رہنے والے مسلمانوں کی بات بھی سنیں اور سب سے اہم، یہ سمجھ لیں کہ لڑائی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ لیکن مشکل ہے، جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ تحقیق کا شاید ان کے پاس وقت نہیں ہے اور دلیل سے ان کی نفرت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ تو یہ بس۔سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Muhammad Salman
اس تحریر میں لکھا ہے کہ انتہاپسند کسی بھی مذہب کا ہو، ان کے پاس سوالوں کے جواب نہیں ہوتے-
مگر اس تحریر میں یہ نہیں لکھا کہ ایسا انتہاپسند پھر کرتا کیا ہے؟
ایسا انتہاپسند گالی دے کر بھڑکاتا ہے، کردارکشی کرتا ہے، دوسرا موضوع چھیڑ دیتا ہے تاکہ سچ پر پردہ ڈال سکے-
اور تمام مذاہب کے انتہاپسند ایسے ہی ہوتے ہیں، یہودی انتہاپسندوں کی بھی یہی ریت ہے اور ہندو انتہاپسندوں کی بھی یہی روش ہے-
تو قصہ مختصر، آپ لوگوں کے اس حربے کو سب سمجھ چکے ہیں، اگر آپ کو واقعی ان غیرمتعلقہ موضوعات پر بات کرنا ہے تو اس سلسلے میں میری ان تحریروں پر تبصرے کریں، جو ان موضوعات سے متعلق ہیں، مجھے ان کے جواب دینے میں عار ہونا دور کی بات بلکہ مجھے شوق ہے کہ ایسے موضوعات پر گفتگو ہو تاکہ پروپیگنڈے کو شکست ہو-
شکریہ