*ہم دوہرے/ڈبل غلام کیسے بنے؟ یعنی غلام در غلام۔ اس بات کو جاننے کے لیئے ہمیں دو سیاسی اصطلاحات/ٹرمینولوجیز کو سمجھنے کی ضرورت ہے، دراصل یہ دونوں صرف اصطلاحات نہیں بلکہ نظریات/تھیوریز ہیں۔ نمبر ایک پہ کلونیل ازم اور نمبر دو ہے نیئو کلونیل ازم۔*
*کلونیل ازم پہ ہم پہلے بھی کافی بات کر چکے ہیں، اس کا مطلب ہے کسی بیرونی قوم یا ملک کا کسی دوسرے علاقہ یا ملک پر قابض ہونا اور اس ملک کے تمام وسائل غصب کر کے اپنے استعمال میں لانا، وہاں اپنی مرضی کی تہذیب و ثقافت اور مذہب کا پرچار کرنا اور وہاں کے لوگوں کو اپنا غلام بنانا۔ اسکی مثال ہے جیسے برطانیہ نے برصغیر ہندوستان، فلپائن،انڈونیشیا پر قبضہ کر کے وہاں کی عوام کو اپنا غلام بنایا اور وسائل لوٹے، دوسری مثال جیسے برطانیہ نے مقامی امریکی باشندوں کا قتل عام کر کے براعظم امریکہ پر قبضہ کیا، اسکی ایک اور مثال ہے جیسے فرانس اور برطانیہ نے براعظم افریقہ پر قبضہ کیا اور وہاں اج تک وسائل لوٹنے میں مصروف ہیں۔ یہ تھی آسان الفاظ میں کلونیل ازم کی چند مثالیں لیکن قابل غور نقطہ یہ ہے کہ تمام براعظموں کو کلونائز کرنے کا عرصہ تقریبا 15ویں اور سولہویں صدی سے شروع ہوتا ہے اور آج تک قائم ہے۔ مگر بیسویں صدی میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور وہ ہے نظریہ کی تبدیلی یعنی بڑے بڑے ممالک کو سنبھالنے، جنگوں اور بغاوتوں سے بچنے اور بہترین کارکردگی و قبضہ کے لیئے نظریہ نیئو کلونیل ازم کو متعارف کروایا گیا۔*
*نئیو کلونیل ازم کے نظریہ کے تحت اب کلونیل پاور (جو ملک یا قوم قابض ہوتی ہے) اب آئیندہ ڈائریکٹ قبضہ نہیں قائم کرے گی بلکہ اس ملک کی معیشت، تہذیب و ثقافت، سیاست اور حکومت پر صرف قابض رہے گی باقی لوگ گھومتے پھرتے رہیں لیکن ان کی پالیسیاں کلونیل پاور بنائے گی۔ اس نظریہ کے تحت غلامی کا احساس بھی نہیں ہوتا اور سمجھ بھی نہیں آتی۔ نیئو کلونائزیشن کا یہ عمل مقامی سیاستدانوں کے زریعے عمل میں آتا ہے، انہیں سب پتہ تھا کہ ہم (پاکستان) آزاد نہیں ہوئے بلکہ نیئو کلونائز ہوئے ہیں، انگریز کو بھی ٹاوٹ چاہیئے تھے اپنے ایجنڈے اور مشن مکمل کرنے کےلیئے تو ان سیاستدانوں کے پھدو لگ گئے اور نسل در نسل عہدوں پر بیٹھ گئے اور عوام تہتر سال یہی سمجھتی رہی کہ ہم آزاد ہو گئے۔پاکستان میں کوئی لیڈر ایسا پیدا نہیں جو مغربی سامراج سے ٹکرا سکے یا چیلنج کر سکے بلکہ انگریز کی غلامی، خوشامد اور نوکری خود بھی کی اور آزادی و خوشحالی کے دھوکے سے عوام کو بھی ذلیل کروایا۔ ہندوستان اور باقی تمام نیئو کلونائزڈ ممالک میں یہی حال ہے مگر بتاتا کوئی نہیں کیونکہ انکی روزی روٹی، کیرئیر اور زندگی کا سوال ہے۔ احساس کمتری میں مبتلاء تمام کے تمام سیاستدان صرف دنیا میں حکومت کے خواب میں اور پیسوں کے لالچ میں نہ عوام کو بخشا اور نہ اللہ و رسول کو۔ اللہ کا انتقام اور انکی ذلالت دیکھیں ایک چھوٹے سے عذاب کی ایک جھلک یعنی کرونا وائرس نے سب کچا چٹھا کھول دیا مغرب کا، اب یہی سیاستدان فوج کو گالیاں دیتے ہیں اور ایک دوسرے پر تھوپ کر اپنی خفت اور شرمندگی مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ نے انکی سب کرتوتوں کے راز فاش کر دیئے ہیں۔ نہ انگریز بچ سکا اور اور نہ اسکے مختلف ممالک میں ٹاوٹس سب ننگے ہو گئے مگر عبرت حاصل نہیں کی۔ جیسے محمد علی جناح نے دین الہی کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر کے آزاد ملک بنانے کی بجائے مغرب کی جدید غلامی (نیئو کلونیل ازم) کو قبول کر لیا اور علامہ اقبال کا دو قومی نظریہ ملک بننے سے پہلے ہی دفن ہو گیا بلکہ محمد علی جناح نے عوام کو نہیں بتایا کہ انگریز آزادی دینے پر رضا مند نہیں بلکہ نیئو کلونیل ملک دے رہا ہے آب آپکی کیا رائے ہے، اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟ کیا میں ہاں کردوں؟ کیا تم جدید غلامی کےلیئے تیار ہو؟ کیا تم ڈبل غلام بن سکو گے؟ اسنے کیوں یہ سوال کرنے تھے؟ دراصل گیم پہلے سے سیٹ تھی اور جھوٹی حکائیتیں اور روائیتیں، جھوٹی کہانیاں اور من گھڑت قصے جوڑ کر محمد علی جناح کو ایسا پروجیکٹ اور پوز کیا گیا کہ مقاصد حاصل کیئے جا سکیں گے اور مقصد تھا دو نئے نیئو کلونیل ممالک کی پیدائش، ادھر جناح اور ادھر گاندھی، یہ راز تبھی کھل گیا تھا اسی لیئے گاندھی نے آزاد دیش اور ہندو راشٹر کی بجائے دوہری غلامی میں دھکیل دیا انگریز سے مل کے تو اسی رنجش میں اسکے ہندووں نے اسے 1948 میں ہی قتل کر دیا۔ دراصل جو ملک نئیو کلونائز کیا جائے وہ کلونیل پاور کے لیئے ایک دوکان کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے یعنی جتنی سیل ہو گی وہ اکٹھی کر کے خوامخواہ کلونیل پاور کو ہر سال جمع کروا دی جائے گی جیسے ہم تابعداری سے اور کچھ کریں نہ کریں یہ کام ضرور کرتے ہیں، ہزاروں ارب ہر سال انگریز اکٹھا کرتا ہے ہم سے۔ قرضہ لینے سے پہلے کسی حکمران نے کبھی عوام سے نہیں پوچھا کہ اب قرضہ لینا چاہیئے یا نہیں، مگر ٹیکس ماچس کی ڈبی پر بھی اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ سارے سایستدان انگریز کے ایجنٹس ہیں مذہبی بھی اور لبرل بھی سب کے سب، جو کوئی آواز اٹھائے یا الٹ چلے تو میڈیا سے آوٹ یا پھر دنیا سے آوٹ۔ کوئی دشمن کبھی کسی دشمن کو سیف ہیون یا سیف ایگزٹ نہیں دیتا اسی طرح انگریز نے ہمیں سیف ہیون نہیں دی بلکہ اپنی دوکان بنائی ہے کمائی کے لیئے اور ہم ادھر بےوقوفوں کی طرح نعرے مارتے نہیں تھکتے۔ جس طرح کے نام نہاد لیڈر اسی طرح کا نام نہاد اسلام۔ قانون بھی مغرب کا، معاشی سودی نظام بھی مغرب کا، ادارے بھی مغربی طرز پر، ساست بھی مغربی یعنی جمہوری اور پارلیمانی، باقی سب کچھ بھی مغربی تو بنایا کیا؟ کیسی آزادی؟ اس وقت دنیا میں چند ممالک ابھی بھی کلونائزڈ ہیں اور باقی تمام برطانیہ، امریکہ، فرانس وغیرہ نے نیئو کلونائز کر لیئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بے حیائی بڑھ گئی ہے فحاشی بڑھ گئی ہے ایسا کچھ نہیں ہے، انگریز اور مغرب کے پیڈ گماشتے، ٹاوٹس اور ایجنٹس ہمارے جیسے غلام ممالک میں میڈیا یا باقی ذرائع سے آپریٹ کرتے ہیں اور معاشرے میں سب گند گھولتے ہیں۔ ان میں اداکار، ماڈل، سنگر، صحافی، اینکر پرسن، لکھاری/ادیب، شاعر، سیاستدان اور مختلف این جی اوز وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ یہ لوگ درپردہ اندر کھاتے مغرب کے ساتھی ہوتے ہیں اور مغربی ایجنڈا کے فروغ میں کوشاں ہوتے ہیں۔ انکو ریڈی میڈ کانٹینٹس مہیا کیئے جاتے ہیں جسکی یہ آگے مشہوری کرتے ہیں اپنے اپنے ملک میں، نئے نئے ٹرینڈز متعارف کروائے جاتے ہیں جسے یہ لوگ اپنا کر لوگوں کو متعارف بھی کرواتے ہیں اور ان ٹرینڈز پر چلنے اور پیروی کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں اور مغرب گھر بیٹھے ہی حاکم بن جاتا ہے عوام کا، چیزوں کا، کلچر کا، اور اسی طرح ہر چیزکا۔ ہمارے ملک میں طرز سیاست ہم مسلمانوں کا نہیں، ہمارے ملک میں طرز معیشت ہم مسلمانوں کا نہیں، ہمارے ملک میں طور طریقے ہم مسلمانوں کے نہیں، کبھی سوچا ہے ایسا کیوں ہے؟ یہ گریٹ گیم ہے اس سب کا مقصد عوام کو مغربی کلچر پر آمادہ کرنا اور پیروی کرنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ مغرب شیطان کا آلہ کار ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں مگر سیاسی اعتبار سے اگر آپ غور کریں تو نیئوکلونائزیشن کی منزل گلوبلائزیشن ہے۔ یعنی پوری دنیا کی ایک عوام، پوری دنیا کا ایک نظام، پوری دنیا میں ایک جیسے ادارے، پوری دنیا میں ایک جیسی معاشرت اور کلچر، اور پوری دنیا میں ایک حکومت جو کہ دجالیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔*
*حکومت تو پہلے ہی کنٹرول میں ہے مغرب کے اس کے علاوہ تعلیم اور تعلیمی پالیسیاں کیسی ہونگی اسکا فیصلہ انگریز کرے گا ہم نہیں، اسی طرح ہر معاملہ حکومت، ریاست اور معاشرت میں مغرب کی پالیسی پر من و عن عمل ہوتا ہے۔ اسی کو نیئو کلونائزیشن کہتے ہیں۔ مغربی سامراج کا یہ کھیل چار صدیوں سے جاری تھا جو کہ اب ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے انشاللہ۔ آزادی صرف دین اسلام کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔*
*حسبناللہ ونعم الوکیل نعم المولی ونعم النصیر*
No comments:
Post a Comment