قائد اعظم پر پی ایچ ڈی
افغانی سرخے ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ قائد اعظم پر پی ایچ ڈی کی اجازت نہیں ہے۔
پیش خدمت ہے قائد اعظم کی ذات پر کی گئی چند پی ایچ ڈیز کی لسٹ۔
""""""""""""""""''"'''"""""""''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''""""
1۔ جناح اتحاد سے تقسیم تک۔ رابعہ شبیر احمد
2- Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah The Formative Hears by Riaz Ahmad.
3- Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah and MK Gandhi, a comparative study 1915-31 by Iftkhar Ahmad Raja.
4- MA Jinnah Leadership pattern by Shehla Kazmi.
5- The Charismatic Leader by Skindar Hayat
6- Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah as the Governor General of Pakistan by Farooq Ahmad Dar
7۔ فاروق ڈار والا مقالہ آکسفورڈ سے Jinnah’s Pakistan کے نام سے۔
8- Quaid I Azam MA Jinnah and creation of Pakistan by Skindar Hayat 1986
9- The Personal life of Muhammad Ali Jinnah by Ghazala Khan 1993
10- The Linguistics analysis of Quaid I Azam MA Jinnah’s Speeches by Samina Nadeem 1998
11- Jinnah Mountbatten relations March August 1947 by Sahira Abbasi 2012
""""""""""""""''''''''''''''"""""""''''''''''''''''''''''''''""""”"""""""""""""""""""""""""""'
بہت سارے آکسفورڈ سمیت مختلف پبلشنگ اداروں نے کتابی شکل میں پبلش بھی کیے ہیں۔
تو سرخیان بتائینگے کہ وہ "قانون" کہاں لکھا ہے جس میں قائد اعظم پر پی ایچ ڈی کرنے پر پابندی ہے؟؟
یہ لوگ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے ایک مشہور دانشور راشد یوسفزئی صاحب نے تو مولانا شیرانی کی پارلیمنٹ میں ایک فرضی تقریر کا ذکر بھی کردیا تھا جس میں قائد اعظم پر پی ایچ ڈی کی پابندی ہٹائے جانے کا مطالبہ تھا۔
صرف اسی سے اندازہ لگالیں کہ ان کے باقی دعوی کس درجے کے جھوٹے اور لغو ہوں گے۔
پی ٹی ایم کے افغانی سرخے الٹا لٹک کر بول و براز کرتے ہیں جو ہمیشہ خود انہی کے منہ پر گرتا ہے۔ 😉
سچ تو یہ ھے کہ قائدِ اعظم اور دو قومی نظریہ کے خلاف خوب اور کھلے عام لکھا گیا۔ جو قومی اخبارات اور چینلز کی زینت بھی بنتا رہا۔
اس حد تک جھوٹ بولا گیا کہ قیام کی مخالفت کرنے والے پاکستان بنانے کے دعویدار بن بیٹھے۔
پی ٹی ایم کے پاس دو ہی چیزیں رہ گئی ہیں۔ یا جھوٹ بولتے ہیں یا گالی دیتے ہیں۔ پھر اسی پر خوش ہوکر ایک دوسرے کو داد دیتے ہیں۔ 😁
نوٹ ۔۔ یہ تحقیق میرے پیارے دوست عبدوہ محمد کی ہے۔
تحریر شاہد خان
No comments:
Post a Comment