Thursday, November 28, 2019

شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا..

کالم۔ منتخب تحریریں 

شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا

 12/09/2019 مبشر علی زیدی 3,168 Views

بارگاہ شہدائے کربلا کراچی کے بڑے امام باڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ انچولی کی مسجد خیر العمل کے احاطے میں قائم ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 1985 میں جب ہم کراچی آئے تو یہ موجود نہیں تھا۔ مسجد کا ہال چھوٹا تھا۔ روضہ امام حسین کی شبیہہ بہت بعد میں بنی۔ آج وہ شبیہہ جس مقام پر ہے، اُس سال وہاں شامیانہ لگا کر محرم کی مجلسوں کا انتظام کیا گیا۔ آپ پرانا کیلنڈر دیکھ کر حیران ہوں گی کہ بتیس ساl پہلے محرم ستمبر کی انھیں تاریخوں میں آیا تھا۔ دس مجلسوں کے ہر عشرے کا کوئی موضوع ہوتا ہے۔ وہ عشرہ علامہ طالب جوہری نے پڑھا تھا اور موضوع گفتگو سورہ الفیل تھی۔

بعد میں شاندار امام باڑہ تعمیر کیا گیا اور میں نے وہاں عظیم اجتماعات دیکھے۔ علامہ عرفان حیدر عابدی اور علامہ طالب جوہری کی مجلسوں کو سننے کے لیے قریب اور دور سے ہزاروں عزادار آتے تھے۔

لوگ کہتے ہیں کہ بارگاہ ہوتی ہے، پھر امام بارگاہ کو مذکر کیوں پڑھا جاتا ہے۔ میں ٹھیک سے نہیں جانتا لیکن میرا خیال ہے کہ چونکہ امام باڑہ مذکر ہے اس لیے اس کی متبادل ترکیب کو بھی اسی طرح بولا جاتا ہے۔ اب لوگ امام باڑہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں۔

میں کراچی آنے سے پہلے بھی علامہ طالب جوہری سے واقف تھا۔ وہ پی ٹی وی پر فہم القرآن کے عنوان سے تقاریر کرتے تھے۔ وہ برسوں نہیں، کئی عشروں تک کراچی میں محرم کی مجلسیں پڑھتے رہے۔ کبھی رضویہ، کبھی انچولی اور کبھی نشتر پارک۔ غالباَ چالیس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ عشرہ محرم نہیں پڑھ رہے۔ کچھ ان کی طبیعت خراب ہے اور کچھ ان کی اہلیہ کی۔

علامہ طالب جوہری حوزہ علمیہ نجف اشرف کے آیت اللہ العظمی علی سیستانی کے ہم جماعت رہے ہیں۔ ایک بار میں نے ان سے اس کی تصدیق چاہی۔ علامہ صاحب نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ دونوں آیت اللہ خوئی کے درس میں ایک ساتھ بیٹھے تھے لیکن جو میرا پہلا سال تھا، وہ سیستانی صاحب کا 17واں سال تھا۔

علامہ عرفان حیدر عابدی جب تک زندہ رہے، بارگاہ شہدائے کربلا میں محرم کے عشرے کی مجلسیں پڑھتے رہے۔ وہ شام کو زیب منبر ہوتے تھے اور مغرب کی اذان سے کچھ پہلے تقریر ختم کر دیتے۔ جملے سے جملہ پیدا کرتے اور دل گرماتے۔ ان کی مجلس میں بہت زیادہ نعرے لگتے تھے۔ ایک گھنٹے میں سے پندرہ بیس منٹ تو نعروں میں صرف ہوجاتے۔ لیکن لوگ مصائب سننے کے لیے بیٹھے رہتے۔ ان جیسے مصائب میں نے کم سنے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ کلیجہ پھاڑ دیتے تھے۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ وہ کربلا والوں کی مصیبتوں کو بیان کرتے کرتے خود ہی بے ہوش ہوگئے۔

علامہ عرفان حیدر عابدی 1998 میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان کی قبر شہدائے کربلا کے احاطے ہی میں بنائی گئی۔

جتنا میں نے علامہ ضمیر احتر نقوی کو سنا ہے، کسی کو نہیں سنا۔ غم حسین اپنی جگہ لیکن علامہ صاحب کو سننے کی ایک وجہ ان کی خطابت کا انداز بھی ہے۔ میر انیس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مرثیہ پڑھتے ہوئے اپنے چہرے کے تاثرات اور ہاتھوں کے اشارے سے آنکھوں کے سامنے جنگ کا نقشہ کھینچ دیتے تھے۔ علامہ صاحب اسی سلسلے کے آدمی ہیں۔ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے کہ بدن میں جان نہیں لیکن آواز جوان ہے۔ کیا آواز ہے، کیا تلفظ ہے، کیا علم ہے، کیا حافظہ ہے، کیا جملے ہیں، کیا اشارے ہیں۔ اگر آپ کا میڈیا سے کچھ تعلق ہے تو علامہ ضمیر اختر کی مجلس میں آپ کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

علامہ ضمیر اختر کا کتب خانہ بہت بڑا ہے۔ آٹھ کمرے کتابوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ دنیا میں شاید ہے کسی کے پاس مرثیوں کا اتنا بڑا ذخیرہ ہو جتنا ان کے پاس ہے۔ وہ ہر سال ایک مجلس مرثیے کی پڑھتے ہیں۔ چہلم کے بعد ایک عشرہ مختار نامہ کے عنوان سے پڑھتے ہیں۔ رمضان کے تیس دن تفسیر قرآن پاک کے مجلسیں پڑھتے ہیں۔

کراچی میں بہت زیادہ مقبولیت رکھنے والے ایک اور ذاکر علامہ عبدالحکیم بوترابی تھے۔ ان کا تعلق حیدرآباد سے تھا لیکن ان کا ظہور عزیز آباد کے امام بارگاہ بوتراب سے ہوا۔ میں نے اس سال وہاں ہزاروں کا مجمع دیکھا۔ اس کے بعد علامہ صاحب نے کئی مقامات پر عشرے پڑھے اور ہر جگہ بہت بڑی تعداد میں عزادار انھیں سننے پہنچے۔

علما اور ذاکرین متکبر نہیں ہوتے لیکن انھیں اپنی علمی برتری کا بار بار احساس دلانا پڑتا ہے ورنہ عوام ان کی بات کو اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن عبدالحکیم بوترابی عجیب شخصیت تھے۔ جب وہ کوئی نکتہ بیان کرتے اور داد کم ملتی تو یہ نہیں کہتے تھے کہ جاہلو، کم عقلو، گھامڑو، تمھاری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آئی! اس کے بجائے وہ انتہائی عاجزی سے کہتے تھے، “شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا۔ ایک کوشش اور کرتا ہوں۔”

میں یونیورسٹی کے بچوں کو پڑھاتا ہوں اور لیکچر کے دوران کنفیوز چہرے دکھائی دیتے ہیں تو مجھے غصہ نہیں آتا۔ اس وقت عبدالحکیم بوترابی یاد آجاتے ہیں۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلتا ہے، “شاید میں آپ کو سمجھا نہ سکا۔ ایک کوشش اور کرتا ہوں۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

مبشر علی زیدی کی دیگر تحریریں

انچولی کی بیٹھکیں

رات، اندھیرا اور سفر

علامہ ضمیر اختر نقوی سے خصوصی گفتگو

علامہ ضمیر اختر نقوی امریکہ میں

← دھرنے کا متبادل: سو جوتے اور سو پیازشام کے سیاسی ایوانوں میں موجود اسرائیلی جاسوس کی کہانی→

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 184 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

Share This Post:

0

اداریہ

قانون کی نازک چھڑی یا آئین کی موٹی کھال

سید مجاہد علی

More 

’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

کالم

آمریت سے لڑنے والا شاعر اور محبت کی تاریخ لکھنے والی صحافی

حنا جمشید

کس نے غائب کیے خوابوں کے رنگ؟

فاروق عادل

آج سپریم کورٹ میں کیا کارروائی ہوئی؟

نیوز ڈیسک

کالم نگارکن موضوعات پر لکھیں؟ ناقابلِ اشاعت کالم

محمد بلال غوری

ابھی تصادم کی سیاست ختم ہوتے نظر نہیں آتی

سلمان عابد

کچھ چھالیہ کے بارے میں‌

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا

’’توسیع‘‘ شاید ’’استحکام‘‘ کیلئے ضروری تھی مگر!

نصرت جاوید

سرفروشی کی تمنا

خورشید ندیم

اور اب ریلوے!!

محمد اظہارالحق

جبر اور محبت کا ایک عجیب رشتہ

بیرسٹر حمید بھاشانی خان

دو نہیں ایک پاکستان!

عاصمہ شیرازی

قانون کی نازک چھڑی یا آئین کی موٹی کھال

سید مجاہد علی

ہانگ کانگ کے نیلے پیلے

محمد حنیف

ہمیں ابوالکلام آزاد کیوں نہیں مل سکا؟

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ایکسٹینشن اور بابو کا انتقام

عدنان خان کاکڑ

آرمی چیف کی ایکسٹینشن۔ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں

عالیہ شاہ

آرمی چیف کی توسیع: آج سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟

نیوز ڈیسک

میرے پاس بیجنگ ہے – مکمل کالم

یاسر پیرزادہ

کیا یہ بچہ آپ کے شوہر ہی کا ہے؟

عشرت آفریں

’’نہلے کے بعد ’’دہلا‘‘ آ گیا۔ اب تماشہ دیکھیں

نصرت جاوید

More 

بلاگ

یہ امید افزا فیصلہ ہے

عامر فاروق

موروثی سیاسی نظام اور جمہوریت!

راؤ غلام مصطفی

مقامی حکومتوں کے انتخابات

سلمان عابد

ریاست بہاول پور کا پہلا صاحب دیوان شاعر: ”ارمغان اوچ“کا مطالعاتی جائزہ

نعیم احمد ناز

لالی پاپ چھوڑیں: جہالت کے دھماکے کی طرف توجہ کریں

ابو نائل

خدا کا شکر ہے!

محمد آصف، ترکی

عفیفہ تبدیلی سے مرحومہ تبدیلی تک

تنویر احمد

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا مقدمہ: جسٹس کھوسہ کی عدالت میں کیا ہوا؟

بی بی سی

سپریم کورٹ: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع دے دی گئی

ع-ادارتی عملہ

صرف باتوں سے کب تک کام چلے گا

حبیب الرحمان الیاس

جب شب زفاف داغدار ہو جائے (دوسرا حصہ)

سید محمد زاہد

بنیادی ضروریات نہ ہوں تو حب الوطنی وجود کھو دیتی ہے

ماریہ زیب اعوان

نواز شریف کو عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا

ریحان ایوب

سیلفیاں رے سیلفیاں

وجاہت عمرانی

پرائمری پاس چیف ایڈیٹر

سید محمد اسحاق

ہمارے محافظوں کا اللہ ہی حافظ

علی چوہدری

محبت کی نفسیات

عادل سیماب

چیف جسٹس ملک کو انصاف دے کر آزاد کریں

شہریار شوکت

بچوں پر جنسی تشدد کی وجوھات اور روک تھام

عامر عباس

کامیابی محنت سے ملتی ہے یا قسمت سے؟

اقبال لطیف

More 

کتابیں

ریاست بہاول پور کا پہلا صاحب دیوان شاعر: ”ارمغان اوچ“کا مطالعاتی جائزہ

نعیم احمد ناز

افتخار عارف کی ’کتابِ دل و دنیا‘ ہی اصل دنیا ہے

اقتدار جاوید

سید کاشف رضا کا کچھوا۔ ایک لا تنقیدی تجزیہ

اظہر حسین، لاہور

More 

آڈیو ویڈیو کالم

سیاسی پابندیوں میں صحافت کیسے کی جائے؟ ایک مکالمہ

نیوز ڈیسک

قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کا دھواں دھار خطاب

نیوز ڈیسک

مولانا فضل الرحمان کی آرمی چیف سے’خفیہ‘ ملاقات کی تصدیق

ویب ڈیسک

محمد جمن زندہ باد

وسعت اللہ خان

منتخب تحریریں

آمریت سے لڑنے والا شاعر اور محبت کی تاریخ لکھنے والی صحافی

حنا جمشید

دو نہیں ایک پاکستان!

عاصمہ شیرازی

قانون کی نازک چھڑی یا آئین کی موٹی کھال

سید مجاہد علی

ہمیں ابوالکلام آزاد کیوں نہیں مل سکا؟

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

میرے پاس بیجنگ ہے – مکمل کالم

یاسر پیرزادہ

کیا یہ بچہ آپ کے شوہر ہی کا ہے؟

عشرت آفریں

’’نہلے کے بعد ’’دہلا‘‘ آ گیا۔ اب تماشہ دیکھیں

نصرت جاوید

متوقع تبدیلیاں اور خوف

عارف نظامی

ان عورتوں میں بہت دم ہے

وسعت اللہ خان

حکومت کو گھر جانا ہو تو راستہ نکل ہی آتا ہے

حبیب اکرم

اب بتائیے کس بات کی فکر کریں غم جہاں کی یا غم جاناں کی؟

ایاز امیر

کیا آپ دوستی کا رازجانتے ہیں؟

ڈاکٹر خالد سہیل

More 

فیچرز

پی ٹی وی کو کیسے زندہ رکھا جائے؟

نعیم احمد ناز

دی میٹ – امریکہ میں تہذیب مشرق کا جہان حیرت

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

مقبول ترین

جنرل باجوہ کی توسیع کے حوالے سے منفی فیصلہ آیا تو وزیر اعظم کا نیا پلان تیار ہے: صحافی کامران خان

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع قومی مفاد کا تقاضا ہے: اداکارہ وینا ملک

ایکسٹینشن اور بابو کا انتقام

اعلیٰ سطحی اجلاس کی اندرونی کہانی: وزیر اعظم برہم، آرمی چیف کا تحفظات کا اظہار

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس: آرمی چیف کی موجودگی میں تین بڑے فیصلے کر لیے گئے

آرمی چیف کا ضبط جواب دے گیا: وزیراعظم سے اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا

عثمان بزدار نے گورنر ہاﺅس فون کرکے کہا کہ میں سوئمنگ کرنے آ رہا ہوں، پانی گرم کردو: عارف حمید بھٹی

شوکت خانم ہسپتال لاہور میں حاضر ڈیوٹی لیڈی ڈاکٹر ملیحہ کوکب کی پراسرار ہلاکت

آرمی چیف کی توسیع: زخم لگنے کا ازالہ ہو بھی جائے تو زخم سے بننے والا نشان نہیں جاتا، حسن نثار

عامر لیاقت حسین نے وزیراعظم سے سینئر صحافی احمد نورانی کو گرفتار کرنے کی اپیل کر دی

Ad

’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کاپی رائٹ 'ہم سب' ڈاٹ کام. بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

Saturday, November 9, 2019

_ذاکر_سے_خطاب

#_ذاکر_سے_خطاب" 🎿

معروف شاعر "جناب جوش ملیح آبادی" نے ایک مجلس عزا کا اہتمام کیا تو "ذاکر' نے پیسے مانگ لیے۔
جناب جوش کو یہ بات اتنی ناگوار گزری کہ 3 دن تک خاموش چُپ چاپ کمرے میں بند رہے۔ آخر انھوں نے قلم اُٹھایا اور نظم "ذاکر سے خطاب" لکھ ڈالی۔۔۔
(ذاکرین کے بارے میں حضرت جوش رح کے اشعار آج کے ۹۹.۹۹ فیصد  مولویوں، خطیبوں، نوحہ خوانوں، ماتمی سنگتوں اور ذاکرین پر منطبق ہوتے ہیں)

سوچ تو اے ذاکر افسردہ طبع نرم خو
آہ تو نیلام کرتا ھے شہیدوں کا لہو

تاجرانہ مشق ھے مجلس میں تیری ہاؤ ھو
فیس کا دریوزہ ھے منبر پر تیری گفتگو

عالم اخلاق کو زیر و زبر کرتا ھے تو-
خون اہلیبیت میں لقمے کو تر کرتا ھے تو

حرص نے تجھ کو سکھایا ھے دنایت کا سبق
کربلا کے ذِکر میں لیتا نہیں کیوں نامِ حق

چشمہء دولت ھے تیرا سیلِ اشک بے قلق
خوں کی چادر سے بناتا ھے تو سونے کے ورق

خانہء برباد ھے دولت سرا تیرے لیئے
اک دفینہ ھے زمینِ کربلا تیرے لیئے

کیا بتاؤں کیا تصور تو نے پیدا کر دیا
غیرتِ حق کو بُھلا کر حق کو رُسوا کر دیا

کربلا و خونِ مولا کو تماشا کر دیا
آب رکنا باد و بُستاں مُصلیٰ کر دیا

مشقِ گِریہ، عَیش کی تمہید ھے تیرے لیئے
عشرہء ماہِ محرّم عِید ھے تیرے لیئے

سوچ تو کچھ جی میں اے مُشتاق ِ راہِ مُستقیم
مومنوں کے دل ہوں اور داماندہء اُمید و بِیم

شدّتِ آہ و بُکا سے دل ہوں سینوں میں دو نِیم
کیوں یہی لے دے کے تھا کیا مقصدِ ذبحِ عظیم

خوف ھے قربانی ِ اعظم نظر سے گر نہ جائے
ابنِ حیدر کے لہو پر دیکھ پانی پھر نہ جائے

سازِ عشرت ھے تجھے ذکرِ امامِ مشرقَین
ڈھالتا ھے تیرے سِکّے بستگان ِ غم کا بَین

تیری دارُ الضّرب ھے اہلِ عزا کا شور و شین
سر جُھکا لے شرم سے اے تاجرِ خونِ حسین

ذہن میں آتا ھے جس کا نام تلواروں کے ساتھ
اس کا ماتم, اور ھو سِکّوں کی جھنکاروں کے ساتھ

۔ ۔ ۔