Saturday, August 31, 2019

ڈاکٹرز کا قتل

آج ڈاکٹر سید عسکری کی شہادت کےبعد سے مجھے رہ رہ کر کراچی ناظم آباد میں شہید کئے جانے والے وہ دو بھائی یاد آ رہے ہیں جنہیں محرم الحرام میں 2016 میں سپہ صحابہ نے فائرنگ کر کے شہید کیا تھا ۔ نیر عباس زیدی ورلڈ بینک اور ناصر عباس زیدی یو این او کے اعلی عہدے دار تھے ۔ ان دو بھائیوں کیطرح آج شہید ہونے والے ڈاکٹر سید عسکری بھی کوئی عام انسان نہیں تھے ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ کارڈیالوجسٹ تھے جنکی ڈگریوں اور ڈپلوموں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ آپ ان تینوں کی تصاویر دیکھیں ۔ اعلی تعلیم یافتہ ، جنکی ذہانت انکی مسکراہٹ میں دکھ رہی ہے ۔ ایسے افراد جو اپنی ذات میں ایک ادارہ ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ جنکی تعمیر میں سال نہیں ، عشرے لگتے ہیں ۔ جو ہزاروں نہیں ، لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں ۔ جنکی شاندار شخصیت کے پیچھے سالوں کی محنت ، لگن ، تعلیم ، تحقیق ہوتی ہے ۔ گھر والوں کی دعائیں ، لاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات ، امیدیں ہوتی ہیں ۔ اور جب یہ کچھ بن جاتے ہیں تو ان سے ہزاروں لوگوں کی امیدیں بندھی ہوتی ہیں ۔ یہ کبھی ڈاکٹر بنکر مسیحائی کرتے ہیں ، کبھی سید نیر اور سید ناصر شہید کیطرح بیروزگاروں کو روزگار دلانے کا سبب بنتے ہیں ۔

اور ایسے لوگوں کو ، ایسے شاندار لوگوں کو موٹر سائیکل پر سوار افراد آتے ہیں ، لمحوں میں گولیاں چلاتے ہیں ، جان سے مارتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ صرف اسلئے کہ یہ شیعہ تھے ۔ صرف اسلئے کہ مارنے والے کے نزدیک یہ کافر تھے اور انہیں زندہ رہنے کا حق نہیں تھا ۔

ان تینوں پر ہی کیا موقوف ، سوچتے لکھتے سیدین شہید کا چہرہ نظر کے سامنے آ گیا،  وہ بھی تو انہی جیسے تھے ۔ ایک ایک کر کے کتنے چہرے نظر کے سامنے آ رہے ہیں اور احساس_زیاں ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ یہ لوگ ، ان جیسے لوگ اب نہیں آئینگے ۔ موت بر حق ہے ، لیکن انہیں عقیدے کی بناء پر مار دیا جائے یہ بر حق نہیں ہے ۔ یہ جینا ڈیزرو کرتے تھے ، ہم ابھی انہیں مزید ڈیزرو کرتے تھے ۔ کبھی مارنے والوں نے سوچا ہے کہ وہ کیسا بڑا نقصان کر رہے ہیں ؟ انہیں مارنے والوں کے سینے میں دل نہیں ہوتا ؟ سر میں دماغ نہیں ہوتا ؟

لیکن اگر ہوتا تو یہ سلسلہ چلتا ہی کیوں ۔ آج ان لوگوں کو کافر کہہ کر مارنے والی وہی نسلیں ہیں جنہوں نے مولا علی ع کے سر پر ضربت لگائی ۔ جو علی ع کی قبر کشائی کرنے کے درپے تھے ، وہ علی ع کے نام لیوائوں کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں ؟

اب جو ہم پیچھے رہ گئے ہیں ، ان سے بغیر کسی تحریک و تنظیم کیطرف اشارہ کئے من حیث القوم ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے ۔ اپنے قاتلوں کو پہچانیں ۔ قاتل اعلانیہ بتاتے ہیں کہ ہم شیعوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ، خطوط تقسیم کرتے ہیں ، شیعہ بستیاں اجاڑتے ہیں اور آپ قاتلوں کو ساتھ کھڑا رکھنے کے حامی ہیں ۔ آپکی جو بھی مصلحتیں ہوں ، خدارا اتنے تو آزاد رہیں کہ اپنے قاتلوں ، اپنی قوم کے قاتلوں سے برات کا اظہار کریں ۔ شیعہ لاشیں گرتی رہیں گی کہ یہ کہیں اوپر طے شدہ ہے ، کم سے کم آپ تو آزاد رہیں ۔ کم سے کم آپ تو سیاہ کو سیاہ اور سفید کو برملا سفید کہیں ۔
تحریر : گل زہرا رضوی

#ShiaGenocide
#ISIisResponsibleForTerrorism

No comments:

Post a Comment