Monday, July 22, 2019

منطق سے بے اعتنائی متزلزل ذندگی.

منطق سے بے اعتنائی متزلزل ذندگی.

خطیب احمد

مجھ درویش بے نشاں کو کورے کاغذ پر خامہ فرسائی کرنے کا ربع صدی جتنا تجربہ نہیں ہے۔  لیکن اضطرابی کیفیت سے پھوٹنے والا ناشدنی خیال گنجلک معاملات کی گتھی سلجھانے میں بھی مفید ثابت ہوجاتا ہے۔ اگر ہم معاشرتی اقدار کی پیدا کرہ پیچیدگیوں کی تنقیص کرنے کے بجائے ان کی ماہِیَّت کو عقلیت کے تناظر میں پرکھیں، تو ہم مثبت پہلو سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔

ذندگی متزلزل ہونے کی اہم وجہ منطقی سوچ سے بے اعتنائی ہے۔ کیونکہ ہم پیچیدگیوں کو ان کی ماہِیَّت کی ساخت کو پرکھنے کے بجائے عجلت پسندی سے کام لیتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری ذندگی میں مسائل کا انبار لگا رہتا ہے۔ چونکہ تمام مسائل کا مرکز و محور منطق سے بے اعتنائی پر منحصر ہے، تو ہمیں منطق کے بارے میں جاننے کی سَعیِ بَلِیغ کرنی چاہیے کہ آخر یہ کیا ہے۔ دنیا میں بے شمار فلسفی ہیں، اگر ان کے بارے میں تنقیح کی جاۓ، تو ان کی تعداد کافی کثیر ہے، جو ناقابل بیان ہے۔ لغت کے اعتبار سے منطق کے معنی گفتگو کرنا ہے۔ اصطلاحی طور پر اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے، وہ معلومات تصوری اور معلومات تصديقی جو مجہول تصوری اور مجہول تصديقی تک پہنچادیں یا یوں کہہ لیجیئے مفروضے کو غور و فکر کر کے دماغ کو غلظی سے بچانا۔

منطق کا کام قول کی صداقت کو پرکھ کر ہر قسم کے مغالطوں سے پاک کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ ذندگی میں منطق سے بے اعتنائی سے ہماری ذندگی عمودِ متزلزل پر قائم ہوچکی ہے؛ اور غیر یقینی ہوتی جارہی ہے۔ بالکل اسی طرح عملی ذندگی میں بھی حقیقت کا ادراک نوع بشر کی ذندگی کے ہر پہلو کا متقاضی ہے۔ چنانچہ منطق کی اہمیت ذندگی میں ہماری سوچ پر منحصر ہے، جس وجہ سےکچھ لوگ منطق کو اہمیت دیئے بغیر کسی بھی شے کی ماہِیَّت کا ادراک کیے بغیر ذندگی بسر کرتے ہیں۔ انسانی اقدار کے اصولوں پر انحصار کرتے ہوۓ ہم اپنی ذندگی بسر کرتے ہیں، لیکن ان ہی اقدار کے اصولوں پر عمل کرتے ہوۓ ہم اپنی ذندگی کے معاملات کو گنجلک کر دیتے ہیں۔

جس کی اہم وجہ ہے کہ حقیقت کا ادارک نہیں ہوتا ہے، اس لیے منطق سے آشنا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ منطق کا مقصد طرز فکر کا صحیح ہونا ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ تصورات اور تصدیقات کو حاصل کرنے کے لیے فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ ہر فکر درست نہیں ہوتی بلکہ فکر میں عموماً غلطی واقع ہوجاتی ہے، اس غلطی سے بچنا انتہائی ضروری ہے؛ اور غلطی سے ہم اس وقت بچ سکیں گے جب ہمیں فکر کے قوانین کا علم ہو۔ چنانچہ یہ ہی فکر کے قوانین غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان قوانین سے آشنائی ہمیں علم منطق کی بدولت ہی ممکن ہے۔ جس کا ہماری ذندگی کو پیچیدہ مسائل سے بچانے میں کلیدی کردار ہے۔ چونکہ منطق کا ہماری ذندگی میں کلیدی کردار ہے، جس پر انحصار کرتے ہم معاشرتی مغالطوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ ایسا پیچیدہ نظام ہے کہ ایک چھوٹی سی تبدیلی کب کسی سانحے کا باعث بن جائے کوئی نہیں جانتا، کیونکہ مکتب تشکیک سے وابستہ افراد اپنے اعتقاد سے پیچیدہ معاملات کو جاننے کی سعی کرتے ہیں؛ اور ہمیں کئی مدارج سے آگاہ کردیتے ہیں۔

مزید آگے بڑھیں، تو بسا اوقات ہم اس مغالطے کا شکار ہیں کہ منطقی قوانین ہر مسئلے میں یکساں ہیں، تو ہم غلطی کرتے ہیں۔ منطق کا اطلاق صرف اور صرف کسی خاص “معلوم” کے قواعد اور قوانین پر ہوتا ہے۔ اگرچہ علم و ادب کے اصولوں پر قائم کی گئی منطق اگر کسی دوسرے علم و ادب کے اصولوں پر نہ اترے، تو اس کو ہم سہل الفہم میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ منطق صرف معلوم پر چلتی ہے۔ جب معلوم ختم ہوجاۓ، تو یہ منطق غیر معتبر ہوجاتی ہے۔ اس کے بر عکس کوئی یہ کہے کہ منطق یا منطقی بات مِن و عَن ہر معاملات انسان کی اپنی مرضی سے ایک جیسی لائقِ اطلاق ہے، تو یہ ایک ناقابلِ قبول بات ہے۔ 

چلیئے، مثال کے ذریعے اپنی فَہم و فَراسَت سے سمجھانے کی سعی کرتا ہوں۔ اگر اپنے حواسِ خمسہ سے جانیں، تو دن اور رات ایک دوسرے کی نقیض ہیں، اور ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک وقت میں یا تو دن ہوگا یا رات ہوگی۔ ایسا قطعی ممکن نہیں کہ ایک ہی وقت میں دن اور رات دونوں موجود ہوں۔ یہ منطق ہے جو اجتماعِ نقیضین کی روک تھام کرتی ہے۔ یعنی منطق یہ شعور بیدار کرتی ہے کہ دو متضاد چیزیں کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی۔ یعنی دن اور رات ایک وقت میں جمع ہونا ممکن نہیں۔ لیکن جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ منطق ”معلوم“ کی حدود کے اندر لائقِ اطلاق ہے۔ اگر اس سے باہر جائیں گے، تو وہی منطق غیر معتبر ہوجائے گی۔ اگر ہم اس حد سے باہر نکل گئے، تو دن رات کی نفی کرنا چھوڑ دے گا۔ دن اور رات ایک دوسرے کے نقیض نہیں رہیں گے۔ کیونکہ جہاں دن اور رات ایک دوسرے کی نفی کرتے تھے، اگر حد کو پار کردیا، تو اب نہ تو دن ہے، نہ رات ہے۔ 

چنانچہ طوالت کے ساتھ اتنے گنجلک مفروضات کو نوع بشر کی عقول تک پہنچانا کافی کٹھن مرحلہ ہے۔ لہذا اپنی برق رفتار ذندگیوں کے معاملات کو شعوری طور سلجھائیے تاکہ ذہن مجہول الشعوری کا مستعد ہونے کے بجائے صحیح اور غلط فکروں میں موازنہ کرکے تشکیکیت سے بچ جاۓ۔ اس کے ساتھ ساتھ قوتِ ارادی میں بھی مزید اضافہ ہوجاۓ گا؛ اور پیچیدہ معاملات کو جانفشانی، استدلال کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت بھی جنم لے گی۔

No comments:

Post a Comment