Tuesday, March 19, 2019

مولا علی علیہ السلام  رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبوب ترین شخصیت

مولا علی علیہ السلام  رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبوب ترین شخصیت ...آخری وقت مولا علی علیہ السلام کو بلایا یھاں تک کہ وصال فرمایا زبردست حوالہ جات کتب اھلسنت سے شاندار فضیلت کا بیان:

عَنْ عٰائِشَةَ،قٰالَتْ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّمْ،وَھُوَفِی بَیْتِھٰالَمّٰاحَضَرَہُ الْمَوْتُ:اُدْعُوا لِیْ حَبِیْبِی (قٰالَتْ) فَدَعَوْتُ لَہُ اَبَابَکرَ فَنَظَرَاِلَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ رَأسَہُ ثُمَّ قٰالَ:اُدْعُوْا لِیْ حَبِیْبِی۔فَدَعُوْا لَہُ عُمَرَ،فَلَمّٰانَظَرَاِلَیْہِ وَضَعَ رَأسَہُ،ثُمَّ قٰالَ:اُدْعُوْا لِی حَبِیْبِی، فَقُلْتُ:وَیْلَکُمْ اُدْعُوالَہُ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طٰالِبٍ،فَوَاللّٰہِ مٰا یُرِیْدُ غَیْرُہُ(فَدَعُوْاعَلِیّاً فَأَتٰاہُ)فَلَمّٰا أَتٰاہُ أَفْرَدَالثُّوبَ الَّذِی کٰانَ عَلَیْہِ ثُمَّ أَدْخَلَہُ فِیْہِ فَلَمْ یَزَلْ یَحْتَضِنَہُ حَتّٰی قُبِضَ وَیَدُہُ عَلَیْہِ۔

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رحلت ِپیغمبر کا وقت قریب تھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے حبیب کو میرے نزدیک بلاؤ۔ پس ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ پیغمبر اکرم نے ایک نگاہ کی اور اپنا سرجھکا دیا۔پھر فرمایا کہ میرے حبیب کو میرے نزدیک بلاؤ۔ پس ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلالیا۔ پیغمبر اسلام نے ایک نگاہ کی اور پھر اپنا سرجھکا دیا۔ پھر فرمایا کہ میرے حبیب کو میرے نزدیک بلاؤ۔ میں نے کہا حیف ہے، علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ان کیلئے بلاؤ۔خدا کی قسم! آپ نے علی علیہ السلام کے سوا کسی کو نہیں چاہا ہے۔ پس علی علیہ السلام کو بلایا گیا۔ جس وقت وہ آئے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے وہ چادرجو خود اوڑھی ہوئی تھی، اُس میں علی علیہ السلام کو داخل کیا اور پھر اُن سے جدا نہ ہوئے،یہاں تک کہ رحلت فرمائی اور اس حالت میں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ علی علیہ السلام کے بدن پر تھا“۔

حوالہ جات

1۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد7،صفحہ360(روایت عبداللہ بن عمر سے)۔

2۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ،بابِ شرح حالِ امام علی علیہ السلام ،ج3،ص14،حدیث
1027،شرح محمودی۔

3۔ حاکم، المستدرک میں،جلد3،صفحہ138،139۔
4 ۔ ذھبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد2،صفحہ482،شمارہ4530۔

5۔ سیوطی،اللئالی المصنوعہ میں،جلد 1،صفحہ193،اشاعت ِ اوّل۔

6۔ مناقب ِ خوارزمی، جلد1،صفحہ38،باب4۔

No comments:

Post a Comment