Sunday, September 23, 2018

یہ ورثہ مرکر بھی نسلوں کو دےجائیں گے!

یہ ورثہ مر کر بھی نسلوں کو دےجائیں گے!

تحریر: خطیب احمد

ہر نئے دِن کا سُورج اپنی روشن تاب کِرنوں کے ساتھ نئی اُمیدیں، اُمنگیں انسان کی جھولی میں ڈال جاتا ہے۔  ہر دِن انسان کے لیۓ ایک نیا پیغام دیتا ہے، بعض اوقات وہ حالات و واقعات انسان کی ذہن کی قرطاس پر نقش ہوجاتے ہیں۔ عاشور کے دِن کی مصروفیات سے فارغ ہوکر دوسرے دِن میں نے سوچا کہ کمانگر بھائی سے حال چال پوچھ لوں کافی دِن ہوگئے ہیں۔ کمانگر حسین بھائی شکار پور میں مقیم ہیں؛ اور عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے بھائی کہتا ہوں۔

ابھی ہماری روز مرہ کے حالاتِ ذندگی کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے کہ شکار پور میں بھی محرم ساتھ خیریت کے ساتھ گذر گئے۔ کمانگر بھائی نے ایک واقعہ سنایا، جو میرے ذہن پر نقش ہوگیا۔ دراصل عاشور والے دن صبح آٹھ بجے سے بارہ، ایک بجے تک کا درمیانی وقت ایسا ہوتا ہے، جب شہر کے تمام تر تعزیے (جلوس و ماتمی دستے) مرکزی امام بارگاہ میں شبِ عاشور رات بھر عزاداری کے بعد اپنی اپنی امام بارگاہوں کو واپس جا چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ یومِ عاشور کا مرکزی جلوس ڈیڑھ بجے کے قریب برآمد ہونا ہوتا ہے۔ لہٰذا اِس درمیانی وقفے میں کوئی خاص سرگرمی نہیں ہوتی؛ اور چوک چوراہے بھی قدرے خالی خالی دکھائی دیتے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں اکثر سُنسان ہوتا ہے۔

کمانگر حسین بھائی بتاتے ہیں کہ لگ بھگ صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا کہ میں لکھیدر چوک پر قائم اپنے ابتدائی طبی امدادی کیمپ میں زمین پر اینٹ کو تکیہ بنائے لیٹا ہوا کوشش کر رہا تھا کہ کسی طور نیند آجائے تاکہ تین شب و روز کی مسلسل بیداری سے پیدا ہونے والی ابتر طبعی کیفیت میں کچھ کمی ہوجائے، ابھی نیند آنے ہی لگی تھی کہ کانوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی آوازوں میں ”حسینیت زندہ باد، یزیدیت مردہ باد“ کے نعرے سُنائی دیئے۔

آنکھیں کھولی تو دیکھا کہ پانچ، چھ چھوٹے چھوٹے بچے گھنٹہ گھر کے قریب سے گذرتے ہوئے مرکزی امام بارگاہ کی طرف گامزن ہیں۔ جِن کے کاندھوں پر دو لکڑیاں ہیں اور ان لکڑیوں کے اوپر ٹِکی پیک بِسکٹس کے خالی ڈبے رکھے ہوئے ہیں، یعنی انہوں نے اپنا ایک تعزیہ بنایا ہوا تھا۔ پہلے پہل تو میں یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ مُسکرا دیا؛ اور اسی مسکراہٹ کے پیچھے آنکھوں سے آنسوٶں کے موتی جاری ہوگئے۔ امام حُسین علیہ سلام  کے ننھے ننھے عزاداروں کا یہ جلوس محض جلوس نہیں تھا بلکہ مجھے ہم سب عزاداروں کی اپنے مولا کے حضور خدمت کی سندِ قبولیت نظر آرہی تھی۔ آج انہوں نے بِسکٹ کے ڈبے بطور تعزیہ نہیں اٹھائے بلکہ ہمیں یہ تسلی دی ہے کہ آپ فکر نہ کریں آپ ہوں نہ ہوں امام عالی مقام ؑ کی عزاداری اسی آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گی۔

یہ واقعہ سُن کر میرے دِل میں عجیب کشمکش پیدا ہوگئی۔ اب ذرا سوچئیے اِن بچوں کے معصوم اذہان سے جاری ہونے والے ”یزیدیت مردہ باد“ کے نعرے سُن کر ِفکرِ یزید  کو اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہوگا۔ شکار پور وہ شہر ہے جہاں گزشتہ سالوں پہلے حالات کافی کشیدہ تھے۔ شہر میں عزاداری کو روکنے کے لیئے کیا کیا حَربے استعمال نہ کیے۔ کبھی بم دھماکے کرکے ہراساں کیا، کبھی سڑکیں بند کر کے محصور کرنے کی کوشش کی، کبھی جلوسوں پر فائرنگ کی، مگر سب کے سب حَربے ناکام رہے۔ بڑے تو بڑے بچوں نے بھی اِن حرکات کو سنجیدہ نہیں لیا۔

مجھے کمانگر بھائی کی یہ کہانی سن کر ندیم سرور صاحب کا ایک جملہ یاد آیا، جو اِنھوں نے نوحہ خوانی کے اختتام پر کہا تھا کہ ” یہ چراغ جلیں گے، تو روشنی ہوگی ہم اور آپ کی عمر تو توبہ کی ہے، اگر اب بھی مولوی صاحب نہ سمجھ آۓ تو دیر نہیں ہوگئی۔ اِن بچوں کی سمجھ میں آنا چاہے کہ عزاداری کیا ہے، جیسے ہمیں بچپن میں سمجھ آگیا تھا۔“ میری تو یہ دُعا ہے کہ پاک پرودگار اِن معصوم عزاداروں کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں، ان کے والدین کو روزِ محشر محمد و آل محمد کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین

http://www.humsub.com.pk/173700/khateeb-ahmed-9/

Saturday, September 22, 2018

ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺩﻻﺋﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮ ﮞ ﺳﮯ

ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺩﻻﺋﻞ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮ ﮞ ﺳﮯ
ﻣﻼﺣﻀﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺬﺍﺭﯾﺎﺕ، ﺁﯾﺖ، 29
ﺗﺮﺟﻤﮧ۔ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ؑ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ‏( ﺳﺎﺭﮦ ‏) ﭼﻼﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭘﯿﭧ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ‏( ﮨﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ‏) ﺑﮍﮬﯿﺎﺍﻭﺭ ‏( ﺩﻭﺳﺮﺍ ‏) ﺑﺎﻧﺠﮫ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﺎﺭﮦ ﻧﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﯿﺎﺍﻭﺭ ﺭﻭﺗﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﯽ ﻧﺒﯽ ؑ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ۔
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺳﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ؑ ﮐﺎﻣﺎﺗﻢ
ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻦ ﭘﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﯽ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ﮐﺘﺎﺏ ﺍﮨﻠﯿﺴﻨﺖ ﻣﯿﺮﺍﺝ ﺍﻟﻨﺒﻮﮦ۔ﺑﺎﺏ، 1 ۔ﺹ،
248
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ؑﮐﺎﻣﺎﺗﻢ
ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﭘﯿﭩﻨﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﯾﻮﺳﻒ ؑ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ﺗﻔﺴﯿﺮ ﮐﺒﯿﺮ۔ﺟﻠﺪ، 5 ۔ﺹ، 158
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺍﻡ ﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﯽ ﺑﯽ ﻋﺎ ﺋﺸﮧؓ ﮐﺎﻣﺎﺗﻢ
ﺑﯽ ﺑﯽ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺮﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺮ ﺗﮑﯿﮧ ﭘﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﭘﯿﭧ ﻟﯿﺎ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ﮐﺘﺎﺏ ﺍﮨﻠﯿﺴﻨﺖ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﻃﺒﻊ ﻣﺼﺮ۔ﺝ، 6 ۔ﺹ، 274 ---
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻭﯾﺲ ﻗﺮﻧﯽؓ ﮐﺎﻣﺎﺗﻢ
ﺟﺐ ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ 2 ﺩﺍﻧﺖ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻭﯾﺲ ﻗﺮﻧﯽ ؓ ﻧﮯ ﺷﺪﺕ ﻏﻢ ﻣﯿﮞﺎﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺌﮯ ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﺎﻣﺎﺗﻢ
ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﮐﻮﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺁﭘﮑﮯ ﭼﭽﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺣﻤﺰﮦ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻨﺪﮦ ‏( ﻟﻌﻨﺖ ﺍﻟﻠﮧ ‏) ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻠﯿﺠﺎ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﺒﺎﯾﺎ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ۔ﻭﺍﻟﯿﻢ، 2 ۔ﺹ، 50
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﺎ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﻧﺎ۔
1 ۔ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﭽﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﭘﺮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ ﻣﺴﻨﺪﺍﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ،ﺝ، 2 ،ﺹ، 41
2 ۔ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﷺ ﺟﻨﮓ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﺷﮩﺪﺍ ﭘﺮ ﺭﻭﺋﮯ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﺝ، 1 ۔ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﻨﺎﺋﺰ،ﺑﺎﺏ، 786 ،ﺡ 1166 ،،۔ﺢﯿﺤﺻ ﯼﺭﺎﺨﺑ،ﺝ، 2
ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﮩﺎﺩ،ﺑﺎﺏ، 52 ،ﺡ، 5 ۔ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ،ﺑﺎﺏ 409, ﺡ 945,
ﺳﻼﻡ ﯾﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ؟
ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻤﺰﮦ ؓ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﺷﮩﺪﺍ ،ﺷﮩﯿﺪ ﻧﮩﯿﮞﮩﯿﮟ؟ﮐﯿﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺎﻏﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻨﺎﯾﺎ۔
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ؓ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﯿﺎ !
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﮦ ﻭﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﭘﯿﭩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ ﻧﮩﺞ ﺍﻟﺒﻼﻏﮧ،ﺟﻠﺪ، 2 ،ﺹ، 97 ‏( ﻋﻼﻣﮧ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺪﯾﺪ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ ‏)
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺻﺤﺎﺑﯽِِ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﺎﺗﻢ
ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﭘﺮ ﺑﻨﯽ ﻣﻐﯿﺮﮦ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﯾﻮﻡ ﺗﮏ ﻣﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﺮﯾﺒﺎﻥ ﭘﮭﺎﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﭘﯿﭩﮯ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ ﮐﻨﺰﺍﻟﻌﻤﺎﻝ،ﺟﻠﺪ، 8 ،ﺹ، 119( ﺖﯾﺍﻭﺭ ﺖﻨﺴﻠﮨﺍ ﻼﻣ ﯽﻘﺘﻣ ﻡﺎﺴﺣ ﻦﯾﺪﻟﺍ)
ﻣﺎﺗﻢ ﻭ ﻋﺰﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺎﺗﻢ
ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻣﺘﻮﮐﻞ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺮ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﯿﺎ۔ﻣﺘﻮﮐﻞ ﮐﻮ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ " ﻣﺤﯽ ﺍﻟﺴﻨﺘﮧ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻨﺖ ﮐﻮﺯﻧﺪﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺳﯽ ﻣﺘﻮﮐﻞ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎﺗﮭﺎﮐﮧ ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ،ﻭﮨﺎﮞﻤﺎﺗﻢ ﮐﯿﺎﺟﺎﺋﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﭘﭽﯿﺲ‏( 25 ‏) ﻻﮐﮫ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﻣﺎﺗﻢ ﮐﯿﺎ۔
ﺣﻮﺍﻟﮧ۔ﺣﯿﻮٰﺓﺍﻟﺤﯽﻭﺍﻥ ‏( ﻋﻼﻣﮧ ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﺩﻣﯿﺮﯼ ‏) ،ﺫﮐﺮ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﺘﻮﮐﻞ ﻭﺗﮩﺬﯾﺐ ﺍﻻﺳﻤﺎﺀ‏( ﻋﻼﻣﮧ ﻧﻮﺩﯼ ‏)