اُونہہ (Oh No)
”اُونہہ“ ایک انگریزی لفظ ہے جو پریشانی کے عالم میں حالات سے اکتاہت کا شکار ہونے کے بعد بولا جاتا ہے۔ عمومی طور پر آج کل کی نئی نسل اِس لفظ کا استعمال کرتی ہے۔ لڑکیوں کو دیکھیں تو، سب سے زیادہ ”اُونہہ“ کا ذور اِن ہی میں پایا جاتا ہے۔ جہاں خراب سیلفی آئی یا اچھی سیلفی ڈِلیٹ ہوگئی، تو زبان سے صرف ایک لفظ ”اُونہہ“ نِکلاتا ہے۔
اب طالب عِلموں کو دیکھیں، تو پورا سال کھیل کود میں گزار دیا۔ جُوں جُوں اِمتحان کا وقت قریب آیا ڈیٹ شِیٹ نوٹس بورڈ پر لگی، تو ”اُونہہ“ کہہ دیا۔ ہاں بھئی کل سے پڑھو گا۔ اب ”اُونہہ“ اِن کی اتنی طویل ہوجاتی ہے کہ امتحان کا وقت آگیا۔ جب امتحان کے نَتائج آۓ، تو دیکھ کر ہی کہہ دیا ”اُونہہ“ فیل ہوگیا۔ یہ ”اُونہہ“ بہت ہی با معنی ہے، جو ہر موڑ پر بولی جاتی ہے۔ پڑھ کر کیا کریں گے، باپ کا کاروبار ہے وہی سنبھال لیں گے۔ اِنٹر ہوگیا تو ٹھیک ہے، نہیں تو ولایت جانے کا موقع مل ہی جاۓ گا۔ وہاں کسی لڑکی سے شادی کرکے سُکون کی زندگی گذاریں گے۔
فیل ہونی کی خَبر جب ماں باپ کو معلوم چلی تو اِن کی زبان سے بھی ”اُونہہ“ نِکلا، یعنی اِن کا دِل ٹوٹ گیا۔ صاحبزادے کی تعلیم پر کثیر رقم خَرچ کر دی، لیکن نتیجہ صِفر آیا۔ اب تعلیم کا خاتمہ بالخیر کر کے، چلو بیٹا کل سے مِکینک کی دُکان پر لگ جاٶ بہتر ہوگا۔ خوامخواه ہم بھی اپنی جان ہلکان کریں۔ ہُنر ہاتھ میں ہوگا، تو بھوکے نہیں مَرو گے۔
جامعہ میں بھی کچھ ایسے نِٹھلے، نِکمے طالب عِلم ہوتے ہیں، جو کبھی لائبریری میں تو نظر ہی نہیں آتے، بلکہ کینٹین پر بیٹھ کر اپنا سارا وقت گپے ہانکنے میں ضائع کرتے ہیں۔ ایسے طلبہ سارا دِن یہاں سے وہاں مَٹر گشیاں کرتے ہوۓ ہی نظر آتے ہیں۔ جب استاد اَسائمِنٹ دیتے ہیں، تو اِن کی زبان پر ایک لفظ آتا ہے، ”اُونہہ“ اب یہ بھی کرنا ہوگا۔ پھر یہ لائبریری کے چَکر لگاتے ہیں، کِتابیں چھانتے ہیں، اِتنی چھان پھٹک کے بعد جب بھی کچھ نہیں ملتا، تو کہتے ہیں ”اُونہہ“ کیا کروں۔ پھر یہ ایک دوسرے سے مانگ کر اپنا اَسائمِنٹ جیسے تیسے مکمل کر لیتے ہیں۔
ویسے تو ہر بچہ اپنے ماں باپ کی نظر میں نا لائق ہوتا ہے۔ اب چاہے وہ کتنے بھی اچھے کام کر لے، شاید والدین اپنے بچوں کی اِن کے مُنہ پر تعریف اِس لیۓ نہیں کرتے کہیں یہ طُرم خان بن کے سِینہ چوڑا کر کے نہ چلنے لگے۔ لیکن بعض مرتبہ والدین کو عِلم نہیں ہوتا کہ اِن کا بچہ کیا گُل کھلا رہا ہے۔ کچھ طلبہ ایسے بھی ہیں، جو پورے سیمسٹر نہیں بڑھتے بس جُوں جُوں امتحان قریب آتے ہیں، تو کہتے ہیں ”اُونہہ“ یار اتنی جلدی آگئے؟ ، اب پورے سیمسٹر نہیں پڑھا یہاں وہاں مٹر گشیاں کر کے گذار دیا، اب ایک لفظ دکھ کے ساتھ ادا کیاجاۓ گا، ”اُونہہ“ یار میڈیم نے اتنا پڑھا دیا ہے، کیسے یاد کریں گے؟
میرے ایک دوست ہیں، وہ بڑے جلد باز اِنسان ہیں اور ہر مرتبہ جلد بازی کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہماری میڈم نے کہا کہ آپ لوگ اپنا اَسائمِنٹ میرے آفس میں دے دیجیئے گا۔ انھوں نے ہڑبڑاہٹ اور جلد بازی مارے اِن کے آفس کے بجاۓ برابر والے آفس میں دے دیا۔ جب دوسرے طلبہ سے معلوم چَلا کہ وہ والے آفس میں نہیں دینا تھا، تو انھوں نے اپنا سَر پکڑ کے بیزاری سے کہا ”اُونہہ“ یہ کیا کر دیا۔
قابل غور بات ہے کہ نتائج جو بھی برآمد ہوں، دونوں صورتوں ”اُونہہ“ ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دراصل اِس لفظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ وقت کی بے قدری کر رہے ہیں؛ اور کام سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ میری تو بَس ”اُونہہ“ کرنے والوں سے یہ ہی گذارش ہے ہر کام خلوص نِیت کے ساتھ کریں نہیں، تو اِن کا اللہ ہی مالک ہے۔
تحریر : خطیب احمد
No comments:
Post a Comment