Sunday, March 11, 2018

مشرقی اقدار کی پاسدار عورت

انسان اپنی جبلت سے تسکین کا متلاشی ہوتا ہے اور تسکین پانے کے لیے اپنی تلاش اس انداز میں جاری رکھتا ہے، جیسے لق و دق صحرا میں ایک پیاسا آب کی تلاش میں در بدر بھٹکتا ہے۔ اسی طرح عورت بھی اپنی سوچ کے مطابق اپنی خواہش کی من وعن تعریف کی متلاشی ہوتی ہے۔عورت صرف اپنی شناسائی پر زندہ رہتی ہے۔ اب یہ اس کی فطری کمزوری سمجھا جاۓ یا اس کے نفس کا لالچ، کیونکہ خواتین کو اپنی جانب توجہ مبذول کروانا اچھا لگتا ہے۔ بعض جان بوجھ کر کرتی ہیں اور کچھ انجانے میں کرتی ہیں۔عورت اپنی ذات کو محور بنا کر اپنے ارد گرد کے کرداروں خصوصتاً مرد کی توجہ کی حاصل کرنے کی انہماک کرتی ہیں۔ اس معاملے میں یہ بڑی جلدی کا مظاہر کرتی ہیں، اپنی تعریف انکو تصدیق شدہ اور شائشہ الفاظ میں چاہۓ ہوتی ہے، اور یہ ان کے ذہنی اعصاب کو فرحت بخشی ہیں۔

ہمارے مشرقی معاشرے میں شعراء اور فنکاروں نے عورت کو حتی الامکان رومانویت اور تصوریت کی تصویر میں ڈھالا ہے۔ مرد کی کی نظر میں عورت تصوری طور پر رومانویت اور جنسی تسکین حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔عورت ایک ایسی مخلوق ہے، جو ذاتی لحاظ سے انسان بھی نہیں بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ یہ کنار بیکسی کا پتلا ہے۔ مشرق میں متصور عورت کو صرف مثالی طور پر دیکھا جاتا ہے۔تصور کیا جاۓ تو عورت کو حُسن اور زندگی سے مُستعار لیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت مفروضاتی طور پر ہی مختص ہے۔ جس کو ہم اس نہج سے نہیں دیکھتے کہ وہ ہماری بہن ،بیٹی اور بیوی ہے، بلکہ صرف عینیت پسندی اور لذت حاصل کرنے کے لیے مختص ہے۔

مرد چاہے عورت کی کتنی ہی تعظیم کر لے مگر اس کی لڑائی کی ابتداء خواتین سے ہی ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ مرد کے لیے کوئی معقول گالی نہیں، تمام گالیوں کی ابتداء خواتین سے ہی ہوتی ہے۔ یہ بات انسان کو تشکیکیت کی حالت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ہمارے انتشاری نظریات معاشرے کو انتشار کی جانب گامزن کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ نظام ہے، جس میں ایک چھوٹی سی بھی تبدیلی لانا نہ جانے کس بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔

عورت ایک ایسی مخلوق ہے جس کا مرد کے ساتھ تعلق قائم ہوتا ہے تو اس کی ذاتی حیثیت ماند پڑ جاتی ہے۔ اس کی شناخت مرد کے اندر گم ہوجاتی ہے۔ وہ مرد کو اپنا محافظ تصور کرتی ہے اور تحفظ کی امید میں زندگی بسر کرتی ہے۔ جبکہ منکوحہ عورت سے پیار سے جتایا جاۓ تو وہ گھبراہٹ محسوس کرتی ہے اور جب اس سے ذار بے اعتنائی برتیں تو یہ اظہار برہمی کرتی ہیں۔

عورت کو فرشتہ صفت سمجھنے میں مرد اور عورت کے درمیان کے فاصلے کا ہونا ہے۔ اس سے پہلے مردوں کے اذہان میں عورت کی صرف تصوری اور رومانوی شکل موجود ہوتی ہے۔ عورت کا مرد تعلق جڑتا ہے تو یہ تعریف ماند پڑجاتی ہے اور جذبات میں جبر اور تشدد  پروان  چڑھتے ہیں جس سے وہ عورت کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتا ہے۔ جس بنا پر منفی نتائج مرتب ہوتے ہیں اور گھریلو تشدد ، عورت دشمنی ان جیسی صورتوں میں نکلتا ہے۔

تحریر : خطیب احمد

Monday, March 5, 2018

مملکتِ خُداداد میں عورت تحفظ کی طلبگار

عصرِ حاضر میں عزت اور حق کی بات تو کی جاتی ہے مگر معاشرہ میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سب سے زیادہ مظلوم عورت ہے روز سنا جاتا ہے کہ کبھی کوئی اپنی بیوی پر ظلم کر رہا ہے کبھی کوئی اپنی بیوی کو جلا رہا ہے۔ کہیں عورت کو محض اس لئے قتل کر دیا جاتا ہے کہ اس نے بیٹی کیوں پیدا کی ہے حالانکہ بیٹی پیدا کرنا عورت کے اختیار میں نہیں ہے اگر ایسے خاوندوں کو بروقت سزا دی جائے تو بیویوں پر بلاجواز ظلم و تشدد کا سلسلہ رک سکتا ہے۔

اکثر  ٹی وی چینلز پر عورت کی عزت اور حق سے متعلق پروگرام دکھائے جاتے ہیں، مگر معاشرہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا سنا تھا کہ عورت پر ظلم و تشدد کے ذمہ دار مرد کو دو لاکھ روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔ مگر آج تک اس قانون پر عمل درآمد ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ لہذا ضرورت ہے ایسے قانون کو موثر بنایا جائے۔ ہمارے معاشرے کی عورت کے مسائل کی روک تھام  اور عدمِ تحفظ فراہم کرنے کیلئے مختلف ادوار میں حکومتیں قانون سازی کرتی رہیں اور مختلف اصلاحات کے اعلانات بھی کیے جاتے رہے ہیں یہ دوسری بات کہ بہت سی قانونی، معاشرتی اور سماجی پیچیدگیوں کی بنا پہ اُن پر مفصل و مشروح عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔

ریاست اگر عورت کا تحفظ نہیں  کرتی تو معاشرہ انہیں قبائلی اور مذہبی قوانین تحت غلام بنا دیا جاتا ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں کا مقامی کلچر عورت کو عزت نہیں  دیتا بلکہ بلکہ جو عزت کے دعويدار نظر آتے ہیں یہ عورت کو پنجرے میں رکھ کر عزت کرنا سمجھتے ہیں۔جدید ریاستوں نے عورت کو تحفظ دیا اگر ہماری ریاست عورت کو تحفظ نہیں دے گی تو یہ بات کرنا بے سود ہوگا ۔۔

اسلام نے عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کیا ہے۔ اگر معاشرے میں اس کے ساتھ عورت کے لیے جو پابندیاں  رکھی ہیں وہ دراصل اُس کی عزت اور احترام کا باعث بنتی ہیں اور اگر کہیں عورت کے ساتھ غیر مساوی رویہ روا رکھا جاتا ہے تو اُس کی ذمہ دار مذہب نہیں بلکہ معاشرے کی فرسودہ روایات اور نظام ہے۔

اسلام نے عورت کو باعزت مقام دیا ہے اسلامی معاشرہ میں اسلامی تعلیم کی خلاف ورزی تو ویسے بھی انتہائی تکلیف دہ بلکہ باعث شرم ہونی چاہئے حکمرانوں سے التماس ہے اس کا فوری نوٹس لیں عورت کو تحفظ دیں!

تحریر : خطیب احمد

Saturday, March 3, 2018

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
مجھے نہیں معلوم کسی کو مجھ سے مسئلہ ہے یا نہیں ۔ہاں مجھے اتنا معلوم ہے۔کہ مجھے کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ۔اور ہو بھی کیوں ؟
شاعر تو محبتوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ سو محبتوں کے راستوں سے نفرتوں کا کیا گزر۔
میرے اطراف ڈھیروں مواقع تھے اور ہیں ۔ لیکن میں نے شاعری کا انتخاب کیا۔ کچی پکی، سچی جھوٹی،چھوٹی بڑی(کسی کی بھی نظر میں ) جیسے بھی کی
ہوش سنبھالنے سے اب تک شاعری ہی کی۔ اور کم و بیش بیس برس تو مختلف فورمز پر بطور شاعر اظہار کرتے ہو گئے ۔ان بیس برسوں میں کسی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
جہاں تک مجھے یاد ہے ۔میں آج تک کسی سے دست و گربیاں نہیں ہوا، سوائے اپنے آپ کے، کسی پر جملہ نہیں کسا، کسی پر انگلی نہیں اٹھائی، جس سے ملا،محبت سے ملا۔
کوئی ایک قدم میری جانب آیا۔ تو دس قدم اس کی جانب بڑھتا چلا گیا۔اگرکوئی آیا، آ کر چلا بھی گیا ۔ تو دل دروازہ بند نہیں کیا۔
اسی جگہ انتظارکیا۔ جب مرضی لوٹ آئے۔
مجھے اکثر سننے کو ملتا ہے ۔ کہ فلاں یہ کہہ رہا تھا ۔فلاں وہ کہہ رہا تھاوغیرہ وغیرہ۔ مگر میں سن کر ایک ہی بات کہتا ہوں ۔کسی کے کہنے سے کیا ہوتا ہے.  تاریخ گواہ ہے ۔ سیکڑوں کردار، جنہیں کوئی تسلیم نہیں کرتا تھا۔وہ امر ہوگئے اور جنہیں سب تسلیم کرتے تھے۔ وہ کہیں نہیں ہیں۔
اور بائی دا وے مجھے تو یہ بھی چاہ نہیں کہ تسلیم کیا جاﺅں۔ میں تو بس جو دیکھتا ہوں سوچتا ہوں اسے کاغذ کے سپرد کر دیتا ہوں. بس یہ سوچ کر کہ میں تو بس محبتیں بانٹنے نکلا ہوں۔سو بانٹتا رہوں گا۔ کوئی تسلیم کرے یا رد۔
لکیریں کھینچ کر ایسا کوئی نقشہ بناؤں گا
جہاں دیوار اٹھے گی  وہیں رستہ بناؤ ں گا
اور ویسے بھی اس کائنات پر ہمارے وجود سے پہلے، اچھائی ہی اچھائی، محبت ہی محبت تھی۔ جہاں اچھائی میں بگاڑ پیدا ہوا، وہیں برائی کا جنم ہوا۔
اور جہاں محبت میں بگاڑ پیدا ہوا، وہیں نفرت نے سر اٹھانا۔چھوڑو یار، نفرتیں مٹاﺅ محبتوں کے چراغ جلاﺅ۔