Tuesday, February 13, 2018

"فدک عقل نہیں، ضمیر کا معاملہ ہے"

"فدک عقل نہیں، ضمیر کا معاملہ ہے"
۔
غدیر یا امامت و خلافت پر علمی دلائل دیئے جاسکتے ہیں، ایک دوسرے کے موقف کے مقابل اپنی دلیل قائم کی جاسکتی ہے اور اپنے اپنے نظریہ کو درست ثابت کرنے کیلئے تاریخ، حدیث اور قران سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ان سب کے بعد دونوں فریق چاہیں تو اپنے اپنے نظریہ پر قائم رہتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اس موضوع پر دلائل دینے والے دونوں فریق ایکد دوسرے کی عقلوں کو اپیل کرتے ہیں۔
۔
فدک کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں معاملہ ضمیر کا ہے اور ضمیر کی مار بہت ظالم ہوا کرتی ہے۔  فدک عقل کو تو بعد میں اپیل کرتا ہے، یہ سب سے پہلے ضمیر کو اپیل کرتا ہے۔ یہ سیدہؑ کا انتظام ہے، کوئی مانے یا نہ مانے۔
شیعوں کو تو ایک سائیڈ پر رکھ دیجئے، میں نے نے لاتعداد سنیوں کو دیکھا ہے جو نبوت کے بعد خلافت کے قائل ہیں لیکن فدک کے معاملے پر ہاتھ باندھ کر اور سر جھکا کر بارگاہ سیدہؑ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہ رسولِ خدا(ص) کی بیٹی خاتونِ جنت سیدہ سلام اللہ علیھا کا معاملہ ہے۔ سیدہؑ "خدا کی قسم، میں جھوٹ نہیں بولتی" کہہ کر عقل نہیں، ضمیر کو اپیل کرتی ہیں۔ آئیں اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہوکر خود کو مطمئن کر لیں۔ میں نے کچھ لوگوں کا ذکر سُن رکھا ہے جو لگاتار دلائل دیتے رہے لیکن بلاخر ضمیر کی عدالت میں پیش ہوکر ہاتھ باندھ کر واپس آگئے۔
رہ گئی بات شیعوں کی تو ہم حقِ سیدہؑ کے ساتھ تھے، ہیں اور اسی کے ساتھ کھڑے رہینگے۔
۔
نوٹ: مجھ خاکسار کی فہم کے مطابق فدک شیعہ سنی مسئلہ نہیں رہ گیا، البتہ اس معاملے پر ایک "سفاکانہ" موقف اختیار کرنے والا طبقہ بہرحال موجود ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو کبھی شہادتِ امام علیؑ کے ایام میں امیرِ شام کے فضائل پڑھتا نظر آتا ہے اور کبھی واقعہ کربلا میں یزیدِ ملعون کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ وکالت کرتا نظر آتا ہے۔ وگرنہ زندہ ضمیر والوں کیلئے فدک بڑا جذباتی معاملہ ہے۔ چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی۔

Monday, February 12, 2018

تیری میری ایسی دوستی۔


دوست کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک بات آتی ہے۔ یعنی اس کے کیۓ جانے والے کارناموں میں اسکا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے۔ یوں کہہ لیجۓ کہ مناسب حد تک اس کو شرارتی اور کمینہ ہونا چاہۓ۔

آپ نے یہ بات تو سنی ہوگی کہ اس بندے نے تو دل میں گھر کر لیا ہے۔بلکل اسی طرح واہبہ کنول صاحبہ کی دوستی نے بھی دل میں گھر کر لیا ہے۔ دوستی کے معیار پر وہ اس طرح اتری ہے کہ بھکاری بار بار آکے تنگ کرتے ہیں۔ جو کہ میرے ساتھ بچپن سے ہے اور میں اسے اب تک بھکت رہا ہوں۔ اصل میں یہ وہ ہی ہے جس نے مجھے اسکول ، کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جامعہ میں اپنے ساتھ اپنے ہی شعبے میں گھسیٹا اور جامعہ میں داخلہ لینے کے لیے آمادہ کیا ، ورنہ میں تو اچھا خاصہ معصوم اور کم گُو انسان تھا۔

واہبہ کنول صاحبہ کی شخصیت میں دو خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ پائی جانے والی ایک سب سے عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ اس قدر تیز رفتاری سے بولتی ہیں کہ برق رفتار ٹرین بھی شرما جاۓ کہ کون میری سوتن آگئی ہے۔ جہاں تک بولنے کی بات ہے تو یہ تو کسی کو بولنے کا موقع بھی نہیں دیتی۔ اس سے مکالمہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے چلتی جُوسر مشین سے گپ کرنا۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ یہ ہر واقعے اس طرح ڈرامائی رخ دے دیتی ہے کہ لگتا ہے کسی مشہور ڈرامہ نگار کی اسکرپٹ پڑھ کے سنا رہی ہو۔ آپ اسے بس ایک طرح خاموش پاسکتے ہیں وہ ہے اس کی تصویر جس میں اتنی حسین لگتی ہے جتنا ایک عورت بات سنتے ہوۓ۔

ہماری دوستی قائم رہنے کی اہم وجہ ہم خیال ہونا ہے۔ ورنہ آج کل کوئی ایک دوسرے کو منہ نہیں لگاتا۔ ہم خیال ہونے کی بنا پر ہم نے ایک دوسرے کو منہ لگانا شروع کردیا، (فرانسیسی باشندوں کی طرح نہیں) مجھے معلوم تھا آپکے ذہن میں کیا فحش بات آئی ہوگی لہذا میں نے اس بات کو واضح کر دیا ہے۔ پریکٹیکل اورئینٹیشن کے لیے انٹرنیٹ پر کثیر مواد موجود ہے (اب مجھ سے لنکس مانگ کر شرمندہ نا کیجئے گا)۔

ہاں تو، میری دلفریب دوست، اول تو تم  پیدا ہی نہیں ہوئی اس دنیا میں بلکہ نازل ہوئی تھی۔اب پتہ نہیں  ہے کہ یہ واقعہ کس سال کا ہے۔ دراصل ہمارے ستارے ایک جیسے ہیں مگر کرتوت بلکل بھی ایک جیسے نہیں  ہیں۔ کیونکہ ایک طرف ایک طرف بولنے والی تیز رفتار ٹرین ہے اور دوسری طرف مریل گدھا جوکہ کئی گناہ وزن اٹھا کر چل رہا ہو۔ کیونکہ اگر ہم دونوں ہی برق رفتاری سے بولنا شروع کردیں تو یا ہم نہیں رہیں گے یا یہ دنیا نہیں رہے گی۔

دراصل اس معصوم سی جان کے ساتھ ایک ظلم اس طرح سے بھی ہورہا ہے کہ ایک طرف میری والد محترم ہیں جو بلکل واہبہ سے مماثلت رکھتے بلکہ ان دنوں پائی جانے والی خصوصیات تقریباً ایک جیسی ہی ہیں۔ اگر آپ ان دونوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیں تو یہ لوگ اپنی آدھی زندگی بولنے میں ہی گذار دیں گے۔ جس وجہ سے مجھے گھر تو کیا جامعہ میں بھی ذہنی دباٶ سے دوچار ہوں۔ مزے دار بات یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو جان کر خوش بھی ہوۓ جب میں نے والد محتروکو واہبہ سے ملوایا تھا، تو اس معصوم انسان نے خاموشی اختیار کر کے انکی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردی۔ کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا اگر ان دو بولنے والوں کے درمیان ایک الفاظ بھی زبان سے نکالا تو پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوجاناہے ۔تو اس وجہ سے خاموشی کو میں نے غنیمت جانا۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ دوستی کی، تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ فی الحال  تو یہ ابھی کچھ بنی نہیں  ہے مگر محلے کی ٹیوشن والی باجی ضرور بن چکی ہے۔ مستقبل میں لیکچرار بننا چاہتی ہیں اور مستحق بچوں کیلے تعلیمی  ادارہ قائم کرنا چاہتی ہیں۔ ابھی ہم جامعہ کراچی میں زیر تعلیم ہیں۔ واہبہ کنول صاحبہ جامعہ کراچی کے شعبہ تعلیم اور میں شعبہ تاریخ اسلام کا طالب علم ہوں۔ اور ہم اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر کے ، Ph.D کرنے کے خواہشمند ہیں۔امید ہے اللہ تعالٰی ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب کرے گا۔ ویسے ہماری یہ دوستی تا دم برقرار رہے گی اور اس کے درمیان کوئی درار نہیں آۓ گی۔ ہماری اس اٹوٹ دوستی کودیکھ کر اور اس تحریر کو پڑھنے والے قارئین کو حسد ہورہی ہوگی، تو میں بس اتنا کہوں گا محنت کر حسد نہ کر۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ‏میٹھا خربوزہ، خاموش بیوی، اچھی پھوپھو، معقول رشتے دار، اُدھار دینے والے دوست اور پردیس میں "فالسے" قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں اور واہبہ کنول جیسی دوست اور اِس کی خاص نظر کرم نصیب والوں کو ملتی ہے۔ تو اس معاملے میں اپنے آپکو میں نے خوش نصیب سمجھتا ہوں۔

تحریر :خطیب احمد