*تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو!*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو!
تم حیدرؑ حیدرؑ کرتے ہو
تم لوگ سقیفہ کے دشمن
تم بیعت سے انکاری ہو
اک دروازے سے اٹھنے والے شعلوں پر
تم روتے ہو
تم مظلوموں کے حامی ہو
تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو!
تم آلِ امیہ کے دشمن
تُف تُف ہے تمہارے شجروں پر
ان شجروں میں سفیان نہیں
جو خون تمہارے جسم میں ہے
وہ خون گواہی دیتا ہے
تم ہندہ کی اولاد نہیں
جب ہندہ کی اولاد نہیں
پس کافر ہو
تم شیعہ ہو!، تم کافر ہو
یہ دیس مسلمانوں کا ہے
اور تم اسلام کو کیا سمجھو!؟
اس دیس سے نکلو، مر جاؤ!
اس دیس میں رہنا چاہو
تو اس دیس کے رہنے والوں کا اسلام سمجھنا لازم ہے
اس دیس کے رہنے والوں کا اسلام یہی بتلاتا ہے
بارود بھری جیکٹ پہنو
اور ہاتھوں میں بندوقیں لو
معصوم، نہتّے لوگوں پر پھر ٹوٹ پڑو
اور ایک خیالی جنت کے لالچ میں آ کر پھٹ جاؤ
دنیا کو جہنم کر ڈالو
ماں باپ کی گود سے بچوں کو چھینو،
دیوار پہ دے مارو
ہر بوڑھے باپ کے ہاتھوں میں جو ایک عصائے موسیٰ ہے
اس کو چھینو
اور ظلم و ستم کی بپھری ہوئی موجوں کے حوالے کر ڈالو
ہر ماں کی بوڑھی آنکھوں سے بہنے والے
ہر آنسو پر ، ہر سسکی پر
بندوقیں تان کے پہرہ دو
اس دیس میں رہنے والوں کا اسلام یہی سکھلاتا ہے
اور تم اسلام کو کیا سمجھو!؟
تم شیعہ ہو ، تم کافر ہو
اس دیس سے نکلو، مر جاؤ!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[عباس ثاقبؔ]
No comments:
Post a Comment