Saturday, February 27, 2021

Middle East.

مڈل ایسٹ کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی کے چار رہنما اصول ہیں مندرجہ ذیل ہیں۔

اول یہ کہ اسرائیل کا تحفظ بہت ضروری ہے۔

دوم‘ ایران کے خطے میں اثر و رسوخ پر کنٹرول ہونا چاہیے۔

سوم‘ حربی سازو سامان کی فروخت کے لیے امیر خلیجی ممالک بہترین مارکیٹ ہیں۔ لہٰذا ان ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔

چہارم تیل کی بلا رکاوٹ ترسیل کے لیے بھی خلیجی ممالک اہم ہیں۔ دوسری جانب یہ ممالک ایران سے خائف ہیں۔ اس لئے انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یہاں ایک قدم سے دو فائدے ہیں، وہ یہ کے خلیج ممالک سے تیل بھی حاصل کیا جائے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسلحہ بھی فروخت کیا جائے۔ جبکہ بحرین اور قطر میں امریکی بحری اور فضائی بیسز موجود ہیں۔ 

2017ء میں صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے سب سے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا تھا۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی نئی جنگ کا آغاز نہیں کیا تھا۔ مگر خطے میں امن کے لیے عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرانے میں صدر ٹرمپ کا ڈائریکٹ رول تھا۔ ان کے آنے تک عرب ممالک اپنے اندرونی خلفشار کی وجہ سے خاصے کمزور ہو چکے تھے۔

مصر اور عراق میں پہلے والا رعب ختم ہو چکا تھا۔ لیبیا عملاً دو حصوں میں منقسم تھا۔ شام میں خانہ جنگی کی سی کیفیت تھی اور روس، ترکی اور ایران اپنا اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے۔ جبکہ دو بڑے خلیجی ممالک یمن کی جنگ میں فریق بن چکے تھے اور خلیجی ممالک میں ایران کے حوالے سے عدم تحفظ کا احساس عروج پر تھا۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کیا تو خلیجی ممالک کی مشکل کچھ حد تک ختم ہوئی۔ مگر ان سب عوامل نے اسرائیل کو بھی خطے کی طاقتور اور پائیدار حقیقت بنا دیا ہے۔

مگر اب انتظار یہ ہے کہ صدر بائیڈن کے دور میں امریکی پالیسی میں تبدیلی ہوگی، جن چار رہنما اصولوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے یا وہ ویسی ہی رہیں گے۔ اس لیے کہ ان چاروں پر امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کا اتفاق ہے۔ اسے امریکہ میں بائی پارٹیزن سپورٹ(Bipartisan Support) کہا جاتا ہے

Saturday, February 6, 2021

Tuesday, February 2, 2021

Job Post description

Urgently looking for a social media manage Need someone who can create content (copies/captions) and work closely with graphics designer, manage posting/scheduling.

Interested people please send cv at saman_992@hotmail.com

People with some experience will be preferred but even if you are a freshie, you are encouraged to apply with a sample of your past work (preferably social media content you have created in past).

Monday, February 1, 2021

پبلک ریلیشن میں کریئر

پبلک ریلیشن میں کریئر

پبلک ریلیشن یا تعلقات عامہ کا مطلب ہے کسی ادارے کا دوسرے ادارے یا عوام سے رابطہ ، جس کیلئے باضابطہ ایک ادارہ یا ادارے میں ایک شعبہ ہوتاہے۔ پبلک ریلیشن کا لفظ پہلی بار 1898ءمیں استعمال ہوا، شروع میں اس کے لیے صرف پبلسٹی اور صحافت سے وابستہ لوگوں سے تعلقات کو ہی کافی مانا جاتا تھا۔ 1982ء میں اس شعبے کو نئی تعریف دیتے ہوئے جماعتوں، اداروں، نظریات، خیالات، خدمات اور پیداوار یا پروڈکٹس کو عوام میں قابل قبول بنانے کے عمل کو پبلک ریلیشن کا نام دیا گیا۔ آج کی پی آر میں منصوبہ بندی، تعلقات، لوگوں کو انگیج کرنا، ان سے ملتے رہنا، ان کی خوشی غمی میں ساتھ رہنا اور اپنا امیج بہتر کروانا شامل ہے۔ لوگوں سے مؤثر رابطہ رکھنا، اس کا اہم حصہ ہے، یہ ذمے داری نہیں ایک طرزِ زندگی ہے۔ سیاسی پی آر کا مطلب اپنی گُڈ وِل بنانا اور اسے بہتر کرنا ہوتاہے۔

پبلک ریلیشن کے شعبے میں کارگزار لوگوں کا بنیادی کام ابلاغ ہی ہے۔ ابلاغ کے اس عمل کے لیے پبلک ریلیشن کا کارکن ویسے ہی ذرائع اور وسیلے اختیار کرتا ہے، جو ابلاغ کے دوسرے میدانوں میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً مطبوعہ مواد مہیا کرنے کے لیے وہ تصویروں سے مزین خبری اعلامیے جاری کرسکتا ہے، اپنے ادارے کی طرف سےمعلوماتی کتابچے، تعارف نامے، ہینڈبل، فولڈر، کیٹلاگ، ڈائریاں، کیلنڈر اور مطبوعہ خبرنامے یا ادارے کے رسائل اور جرائد وغیرہ تیار کرتا ہے۔ آڈیو ویژول مواد کے طور پر ریڈیو، ٹی وی پروگرام، تقریروں، مذاکروں، جلسوں اور مباحثوں کا اہتمام کرتا ہے۔ بصری مواد مہیا کرنے کے لیے مظاہروں ، نمائش ، فلموں، سلائیڈوں، دستاویزی فلموں، ثقافتی تقریبوں، پریڈوں وغیرہ کے انعقاد کاانتظام کرتا ہے۔ غرض وہ ابلاغ کا ہر حربہ استعمال میں لاتا ہے۔ پبلک ریلیشن اورتشہیر مترادف اصطلاحات نہیں ہیں۔ تشہیر ،پبلک ریلیشن کا ایک حصہ ہوسکتی ہے، بجائے خود اسے پبلک ریلیشن کا عمل نہیں سمجھنا چاہیے ۔

چونکہ پبلک ریلشن کے شعبے کا بنیادی کام ابلاغ ہے اوراس شعبے کے کارکن بھی خبری مواد کی تحریر، رائے عامہ کی تشکیل اور اخبار و رسائل کے اجرا جیسے کام کرتے ہیں، اس لیے اس پیشے میں تربیت یافتہ صحافی عام خواندہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں اور بالعموم اس پیشے میں ذرائع ابلاغ میں کارگزار رہنے والے لوگ ہی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی ان سب جامعات میں جہاں ابلاغِ عامہ یا صحافت کا شعبہ موجود ہے ،وہاں ابلاغِ عامہ کے نصاب کے جزو کے طور پر پبلک ریلیشن کی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ سرکاری محکموں میں پبلک ریلیشن افسروں اورکارکنوں کی تقرری کے لیے ابلاغِ عامہ کی ڈگری کی شرط اب عمومی طور پر اسامیوں کے اشتہارات میں نظر آنے لگی ہے۔ نجی اداروں اور تنظیموں میں پبلک ریلیشن افسران کی اسامیوں پرترجیحی طور پر تجربہ کار صحافیوں کا تقررہی عمل میں آتا ہے۔

انفرادی خصوصیات

ا س دلچسپ میدانِ عمل میں آنے والوں میں جو انفرادی خصوصیات درکار ہوتی ہیں ان میں اچھی شخصیت، تحریر و تقریر پر دسترس، عمدہ، دلکش اور دلچسپ گفتگوکرنے کی اہلیت، اپنے ادارے یا محکمے و شعبے سے گہری وابستگی، وفاداری، مجلسی آداب سے آگاہی، ذمہ داری، خوش لباسی اور شگفتہ مزاجی وہ اوصاف ہیں، جو آپ کو آپ کے ادارے کی ہی نہیں بلکہ عوام الناس میں بھی ہر دلعزیز شخصیت بنادیتے ہیں۔

پیشے کی نوعیت

بڑے اداروں میں پبلک ریلیشن کے الگ شعبے اورنظامتیں قائم ہیں اور ان میں ایک وسیع عملہ کار گزار ہوتا ہے، وہاں کچھ لوگ دفتروں میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور کچھ کارکن اخبارات کے دفاتر اور دیگر پبلک مقامات پر فیلڈ میں کار گزار ہوتے ہیں۔ دفتر میں بیٹھنے والے مطبوعہ، بصری اورسمعی موادکی تیاری کا کام کرتے ہیں۔ اعلامیے، ہینڈ بل، بروشر اور کتابچے وغیرہ تیار کرتے ہیں یا خبر ناموں کی تیاری کا کام کرتے ہیں اور جو لوگ فیلڈمیں کام کرتے ہیں، وہ رائے عامہ کے ترجمانوں، ذرائع ابلاغ کے کلیدی افراد، اعلیٰ سرکاری وغیر سرکاری حکام اور ممتازشخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریروں، مباحثوں، جلسوں، مذاکروں، ثقافتی تقریبات، مظاہروں، نمائشوں وغیرہ کے انعقاد کا اہتمام کرتے ہیں۔ چھوٹے اداروں میں جہاں ایک ہی پبلک ریلیشن افسر ہوتا ہے، اسے دفتر کے اندر اور دفتر کے باہر سب جگہ کام کرناپڑتا ہے۔

ترقی کے مواقع

بڑے نجی اداروں میں افسران کو دی جانے والی مراعات اور تنخواہیں اتنی پرکشش ہوتی ہیں کہ کہنہ مشق اورپرانے صحافی اپنا برسوں کا کیریئر چھوڑ کر پبلک ریلیشن کے پیشے کو اپناتے نظر آتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کے محکمہ ہائے اطلاعات سے افسراطلاع کا تقرر سترہویں گریڈمیں ہوتا ہے۔ افسر اطلاعات سے اوپر بالترتیب اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، ڈپٹی ڈائریکٹرپبلک ریلیشن اور ڈائریکٹر جنر ل پبلک ریلیشن کے مدارج ہوتے ہیں۔ ان مدارج کے لیے بالترتیب19,18اور20گریڈ مخصوص ہیں۔ مرکزی محکمہ اطلاعات میں افسر اطلاعات، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈائریکٹر، ڈائریکٹر مجاز اطلاعِ عامہ اور پرنسپل افسر کے پانچ مدارج ہیں، جو16گریڈسے شروع ہوکر20گریڈ پر ختم ہوتے ہیں۔