Saturday, February 29, 2020

Mubashir Zaidi: Emotional Followup

دو سال پہلے میں پہلی بار امریکا آیا تو ہیوسٹن میں ایک ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کے والد میرے کالج کے پرنسپل رہ چکے تھے۔ عالم دین تھے اور مجلسیں بھی پڑھتے تھے۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ نے پاکستان کیوں چھوڑا؟ انھوں نے بتایا کہ ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ حملہ آور پیچھا کرتے کرتے ان کے گھر تک پہنچ گئے تھے لیکن وہ خوش قسمتی سے بچ گئے۔ پھر انھوں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے ایک عبرت انگیز بات بتائی جسے میں نے ایک کہانی میں بیان کیا ہے۔ وہ کہانی اخبار نے چھاپنے سے معذرت کرلی تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انھوں نے اپنے والد سے کہا، ’’پاکستان میں جان کا خطرہ ہے۔ میں ایک اسلامی ملک  جانا چاہتا ہوں۔‘‘ عالم دین والد نے کہا، ’’کسی غیر اسلامی ملک جاؤ تو بہتر ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے حیران ہوکر پوچھا، ’’کیوں؟‘‘ والد نے کہا، ’’رسول پاک نے بھی مسلمانوں کو ہجرت کرکے غیر مسلم نجاشی کے پاس جانے کو کہا تھا۔ غیر پناہ دے دیتا ہے۔ اپنوں کا بھروسا نہیں۔‘‘
پروفیسر علی رضا شاہ نقوی کے ذہن میں ضرور امام حسین کی مثال ہوگی جنھیں کلمہ گو مسلمانوں نے گھیر کے شہید کردیا تھا۔
آج کی خبر ہے کہ کراچی میں ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر حیدر عسکری کو قتل کردیا گیا ہے۔
کچھ کلمہ گو مسلمانوں کا دل نہیں ہوتا ورنہ دل کے ڈاکٹر کو کون قتل کرتا ہے؟

۔۔۔

میں بھی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا اور مون بھی۔ میں ایک پرائمری اسکول میں ٹاپ کرتا آیا تھا اور وہ دوسرے اسکول میں۔ گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہم ایک ہی جماعت میں اکٹھے ہوگئے۔ میں سہہ ماہی امتحان میں اول آیا اور مون ششماہی امتحان میں۔ سالانہ امتحان میں ہم دونوں نے سخت محنت کی۔ نتیجے کا اعلان 31 مارچ 1985 کو ہونا تھا۔ میں وہ دن کبھی نہیں بھلا سکتا۔

میں اس سے پہلے قائداعظم پبلک اسکول میں پڑھتا تھا جو خانیوال کا پہلا انگلش میڈیم اسکول تھا۔ شہر میں کوئی انگلش میڈیم ہائی اسکول نہیں تھا۔ چھٹی جماعت میں داخلے کے لیے صرف تین آپشن تھے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول، اسلامیہ ہائی اسکول اور کمیٹی اسکول جو صرف مڈل تک تھا۔ میرے بیشتر کلاس فیلوز نے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔

مون کا اصل نام وقار امین تھا۔ وہ ڈاکٹر امین کا چھوٹا بیٹا تھا۔ ڈاکٹر امین میرے بڑے ماموں کے کلاس فیلو اور گہرے دوست تھے۔ ان کے بڑے بیٹے فہیم میرے ماموں زاد تہور بھائی کے کلاس فیلو تھے۔ مون نے پانچویں سرسید پبلک اسکول سے پاس کی تھی۔

قائداعظم پبلک اسکول میں ہر کلاس کے چار سیکشن ہوتے تھے اور ہر سیکشن میں صرف پندرہ سترہ بچے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہر جماعت کے چھ سیکشن تھے اور ہر سیکشن میں سو سوا سو بچے۔ کلاس کیا تھی، مجمع عام ہوتا تھا۔ اسکول کا احاطہ بہت بڑا تھا۔ کرکٹ ہاکی اور فٹبال کے بڑے بڑے میدان تھے۔ ان کے علاوہ بھی کافی خالی جگہ تھی۔ لیکن عمارت چھوٹی تھی اور چھٹی جماعت کے کسی سیکشن کے لیے کمرے دستیاب نہیں تھے۔ گرمی سردی ہر موسم میں ہم درختوں کے نیچے زمین پر بیٹھتے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول ہمارے گھر سے دو کلومیٹر دور تھا۔ میں کچھ دن پیدل گیا، پھر بابا نے سائیکل خرید دی۔ سیکڑوں طالب علم اور تمام اساتذہ سائیکلوں پر ہی اسکول آتے تھے۔

کلاچی صاحب ہیڈماسٹر تھے۔ ان کا ایسا رعب قائم تھا کہ بچے نام سن کر کانپ جاتے۔ کسی کی ہمت نہ تھی کہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ لے۔  وہ اسکول کے دورے پر نکلتے تو سناٹا چھا جاتا۔ درختوں پر بیٹھے پرندے تک سہم جاتے۔

میں نے کبھی کلاچی صاحب کو کسی پر ہاتھ اٹھاتے نہیں دیکھا لیکن گورنمنٹ ہائی اسکول کے اساتذہ بچوں کی دھنائی کرنے کے لیے بدنام تھے۔ بدنام کا لفظ میں نے استعمال کیا، خانیوال میں اسے نیک نامی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ تعریفاً کہتے کہ گورنمنٹ ہائی اسکول اچھا ہے کیونکہ اس کے ٹیچرز سخت ہیں۔
بچوں کی چمڑی ادھیڑنے میں جو اساتذہ پیش پیش تھے ان میں ایک ڈے ماسٹر اور دو پی ٹی ماسٹر پیش پیش تھے۔ جو لڑکا کلاس کے باہر دکھائی دیتا، اس سے سوال بعد میں کرتے، پہلے حکم دیتے، ’’چل کن پھڑ لے۔‘‘ کھڑے کھڑے کان پکڑنے کو کان پکڑنا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مرغا بننا پڑتا تھا۔ جھکے جھکے بتانا پڑتا کہ کلاس ٹیچر کی اجازت سے نلکے سے پانی پینے کے لیے نکلا تھا۔ جواب پسند آتا تو کولہے پر ایک دو بید رسید کرکے جانے کی اجازت دے دی جاتی۔ جواب پسند نہ آتا تو ایک دو بید مار کے دس پندرہ منٹ اسی پوزیشن میں رہنے کی سزا دی جاتی۔ ٹانگیں شل ہوجاتی تھیں۔ کمر دکھ جاتی۔ پندرہ منٹ بعد مرغا دوبارہ انسان بننے کی اجازت طلب کرتا تو پتا چلتا کہ حکم دینے والا کسی اور مقام پر چھاپا مارنے کے لیے رخصت ہوچکا ہے۔
ہمارا سیکشن اے تھا اور کلاس ٹیچر ماسٹر عبدالشکور تھے۔ سر پر بال کم، داڑھی لمبی اور دبلے پتلے۔ اکثر ملیشیا رنگ کا قمیص شلوار پہنتے تھے۔ وہ انگریزی اسکولوں سے آنے والوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ عورتوں سے پڑھ پڑھ کر یہ لڑکے نازک ہوگئے ہیں۔ لیکن ہم سب پڑھائی میں اچھے تھے اس لیے انفرادی سزائیں شاذونادر ہی ملتی تھیں۔ اجتماعی سزا البتہ سب کو بھگتنا پڑتی تھی۔ یعنی اتنا شور کیوں ہورہا ہے؟ سب کن پھڑ لو۔

اس زمانے میں سرکاری اسکولوں میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی۔ ہم جو اے بی سی ڈی کلاس ون میں یاد کرکے آئے تھے، وہ نوے پچانوے بچوں کے ساتھ چھٹی جماعت میں دوبارہ سیکھنا پڑی۔ البتہ کئی مضامین ایسے تھے جو پہلی بار گورنمنٹ ہائی اسکول میں پڑھے۔ عربی ایک سال پڑھی اور میں نے ہر ٹیسٹ میں نوے سے زیادہ نمبر لیے۔ ڈرائنگ سے کوئی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود سب سے زیادہ نمبر لیتا رہا۔ فارسی نہیں پڑھ سکا کیونکہ ڈرائنگ، فارسی  اور زراعت میں سے ایک مضمون لیا جاسکتا تھا۔

میں چھٹی پڑھ رہا تھا کہ بابا نے کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کا تبادلہ کئی ماہ بعد ہوا اس لیے چھوٹے ماموں کراچی سے ہمیں لینے آئے۔ خانیوال سے ٹرین کی برتھیں نہیں مل رہی تھیں چنانچہ ملتان سے بکنگ کروائی۔ خانیوال سے ملتان جانے کے لیے گاڑی کا انتظام کیا۔

میں نے ماموں سے پوچھا، کس تاریخ کی بکنگ کروائی ہے؟ انھوں نے بتایا، 31 مارچ کی۔ میں نے کہا کہ اس دن میرا نتیجہ ہے۔ بابا نے کہا، نتیجہ میں اسکول سے لے کر بھیج دوں گا۔ میں نے ضد کی کہ اس دن اسکول جاؤں گا اور رزلٹ خود سنوں گا۔ لیکن وہ دن آیا تو مجھے امی نے اسکول نہیں جانے دیا کہ گاڑی آنے والی ہے۔ اسکول جاؤ گے تو گاڑی چھوٹ جائے گی۔

میں اسکول نہیں جاسکا اور مجھے معلوم نہیں ہوا کہ سالانہ امتحان میں کون اول آیا۔ بہت انتظار کے بعد بابا نے اسکول سے ٹرانسفر سرٹیفکیٹ بھیجا لیکن اس کے ساتھ رزلٹ کارڈ منسلک نہیں تھا۔ آٹھ سال بعد میں خانیوال گیا اور اسکول جاکر ریکارڈ دیکھنا چاہا۔ وہاں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
کراچی جاکر میں نے ڈاکٹر بننے کی خواہش ترک کی اور کالج کے بعد صحافت کا پیشہ اختیار کرلیا۔ نوے کی دہائی میں خانیوال کے کئی چکر لگائے لیکن مون سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر امین سے ان کے اسپتال جاکر ضرور ملتا رہا۔ 2009 میں خانیوال گیا تو حسب سابق قدم امین اسپتال کی طرف اٹھ گئے۔ اندر داخل ہوا تو ڈاکٹر امین گلے میں اسٹیتھ اسکوپ ڈالے کسی مریض کے لیے نسخہ لکھ رہے تھے۔ میں سلام کرکے بینچ پر بیٹھ گیا۔ ایک لمحے کو سوچا کہ کراچی میں بڑے ماموں کس قدر ضعیف ہوگئے ہیں لیکن ڈاکٹر امین ویسے ہی جوان ہیں۔ پھر حیرت کا جھٹکا لگا کہ جسے میں ڈاکٹر امین سمجھ رہا ہوں، وہ ڈاکٹر وقار امین ہے۔

مون بہت محبت سے ملا اور فہیم بھائی سے ملاقات کروائی جو اب ڈاکٹر فہیم ہیں اور آنکھوں کے اسپیشلسٹ۔ میرے دل میں کئی بار خیال آیا کہ مون سے چھٹی جماعت کے سالانہ نتیجے کے بارے میں پوچھوں لیکن پھر باز رہا۔ یہ تھوڑا سا تجسس باقی زندگی بھی برقرار رہے تو اچھا ہے۔

نہ میں نے ڈاکٹر وقار سے وہ سوال پوچھا اور نہ یہ بتایا کہ کراچی جانے کے ڈیڑھ سال بعد میرا بھائی پیدا ہوا تو میں نے اسے اپنے دوست، کلاس فیلو اور امتحانات میں رائیول کی طرح مون کہنا شروع کردیا۔ نہ یہ بات خاندان میں کسی کو معلوم ہے اور نہ آج تک چھوٹے بھائی کو پتا ہے کہ میں نے اس کا نام مون کیوں رکھا۔

۔۔۔۔

18 فروری سنہ 2013 مایہ ناز ماہر امراض چشم ڈاکٹر علی حیدر بخاری اور ان کے معصوم بیٹے مرتضی حیدر کا یوم شہادت ہے۔ انہیں لاہور میں تکفیری دہشتگردوں نے اس وقت قتل کردیا تھا جب وہ اپنے بیٹے مرتضی کو علی الصبح اسکول چھوڑنے جا رہے تھے۔

گزشتہ چند برسوں سے میں ہر برس ڈاکٹر علی حیدر شہید اور اُن کے معصوم بیٹے مرتضی حیدر کی برسی پر کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس انسان میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ جب جب اس کے یا اس کے خانوادے کے بارے میں کچھ لکھا، آنکھ بے اختیار نم ہوگئی۔ شاید اس کی وجہ وہ ظلم ہے اور وہ بے قدری ہے جو وطنِ عزیز میں اس عظیم خاندان کو اس کی تمام خدمات کے صلے کے طور پر میسر آئی۔ ڈاکٹر علی حیدر کے والد پروفیسر ظفر حیدر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پرنسپل رہے تھے، والدہ پروفیسر طاہرہ بخاری Anatomy کی پروفیسر رہی ہیں۔ پروفیسر ظفر حیدر خود ایک ماہر سرجن تھے۔ اُن کی زیر تربیت تیار ہونے والے ڈاکٹرز اور سرجنز آج بھی دنیا بھر میں خدمات انجام دیتے ہونگے لیکن جو تحفہ انہوں نے انسانیت کو اپنے بیٹے ڈاکٹر علی حیدر کی صورت دیا تھا، اُس کا تو کوئی بھی ثانی نہیں۔ بینائی سے محروم انسانوں کو بینائی دینے والا تحفہ، ایک قابل ترین ماہر امراضِ چشم جس کا نام دنیا کے سو قابل ترین ڈاکٹرز کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ افسوس کہ یہ اعزاز وصول کر بے کیلیے وہ دنیا میں موجود نہیں تھے۔

اس ملک کو ڈاکٹر علی حیدر جیسا تحفہ دینے والے پروفیسر ظفر حیدر کو اپنی زندگی میں ہی نہ صرف اپنے بیٹے کے جنازے کو کاندھا دینا پڑا بلکہ اپنے پوتے کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے سپرد خاک ہوتا دیکھنا پڑا۔ جنازے میں شریک ہونے والے احباب بتاتے ہیں کہ تدفین کے وقت وہ مسلسل "وا محمداؐ" کی صدائیں دیتے رہے تھے جیسے اس دنیا کی عدالتوں سے مایوس ہوں اور اپنا مقدمہ شافع محشر ص کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہوں ۔  بلاخر چند برس قبل یہ ضعیف باپ سینے میں بیٹے اور پوتے کے قتل کا زخم لیے خود بھی دنیا سے رخصت ہوگیا۔ کہنے کو تو انہیں کینسر کا مرض لاحق تھا لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ان کا اصل کرب اور روگ اپنے بیٹے اور معصوم پوتے کا بہیمانہ قتل تھا۔
۔
پاکستان میں 300 سے زائد شیعہ ڈاکٹرز کو اُن کی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے، ملک چھوڑ جانے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جو کرب ڈاکٹر علی حیدر اور اُن کے معصوم بچے کے بہیمانہ قتل پر محسوس ہوتا ہے، وہ سب سے الگ ہے۔ ڈاکٹر علی حیدر کی زوجہ کے قلم سے ہر برس اپنے بیٹے کی سالگرہ کے دن انگریزی میں لکھی گئی تحریر پڑھ کر دل بے اختیار پکار اُٹھتا ہے کہ ایسی ہی کوئی کیفیت ہوگی جس سے مغلوب ہوکر حسرت و یاس کے شاعر ناصر کاظمی نے یہ شعر کہہ دیا ہوگا:

او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا۔۔!
۔
زیر نظر تصویروں میں پہلی تصویر ڈاکٹر ظفر حیدر کی ہے جو چند لوگوں کے سہارے کھڑے ہوکر اپنے بیٹے اور پوتے کو دفن ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ باقی دو تصویریں ڈاکٹر علی حیدر بخاری اور ان کے بیٹے مرتضی کی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر حیدر اور ڈاکٹر علی حیدر جیسے لوگ مسیحا ہوتے ہیں۔ ان کے درجات بارگاہ خدا و معصومین علیھم اسلام میں بہت بلند ہوتے ہیں۔ ہم جیسے گناہ گار ان عظیم لوگوں کیلئے فاتحہ کی درخواست کرکے دراصل اپنے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں درج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔
۔
نور درویش

Laws for liberty

Laws for liberty

Part 1

https://www.thenews.com.pk/print/620731-laws-for-liberty

Part 2

https://www.thenews.com.pk/print/621506-laws-for-liberty

Tuesday, February 18, 2020

Mubashir Zaidi: Media

دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے کہ زیادہ اور مہنگے اشتہار اس نیٹ ورک کو ملتے ہیں جس کی ریٹنگ زیادہ ہوتی ہے۔ ٹی وی چینلوں کو ریٹنگ کی خاطر نامعقول فیصلے کرنے پڑتے ہیں کیونکہ یہ کروڑوں اور اربوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ صرف پاکستان نہیں، دنیا بھر میں ریٹ ریس ہوتی ہے۔
میں ریٹ ریس جیتنے کی کوشش میں کیے گئے چار اہم فیصلے گنوا سکتا ہوں۔

پہلا فیصلہ خبر جلدی دینے کا تھا۔ اسے مثبت سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ نیوز میڈیا کا بنیادی فرض خبر دینا ہے لیکن مسائل وہاں ہوئے جب جلدی کی کوشش میں غلط خبریں نشر ہوئیں۔ کبھی حادثے میں زیادہ ہلاکتیں بیان کی گئیں اور بعد میں تعداد کم کرنا پڑی۔ کبھی دھماکے کی خبر چلائی گئی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دہشت گردی نہیں تھی۔ میرے سامنے کئی بار گھبراہٹ میں فون ملاکر براہ راست نشریات میں اینکر سے بات کروائی گئی تو پتا چلا کہ نمبر غلط ملایا گیا۔ ناول نگار محمد حنیف کی جگہ محکمہ موسمیات کے محمد حنیف آن ایئر چلے گئے اور تجزیہ کار طلعت حسین کے بجائے ٹی وی اداکار طلعت حسین کا بیپر لے لیا گیا۔

دوسری دوڑ ایونٹس کی براہ راست کوریج کی تھی۔ پہلے آئی پی ٹی اور اسی طرح کے ذرائع سے لائیو ویڈیو بھیجی جاتی تھی۔ پھر سیٹلائٹ وین یعنی ڈی ایس این جی آئی۔ کارڈلیس کیمرے خریدے گئے۔ ایک شہر میں دو سیٹلائٹ وین والے ہار جاتے تھے اور چار ڈی ایس این جیز والے جیت جاتے تھے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا تھا کہ آپ کتنا اہم ایونٹ کور کررہے ہیں۔ زور اس بات پر ہوتا تھا کہ لائیو نشر کریں۔

اس دور میں یہ ہوا کہ شہباز شریف کی پریس کانفرنس براہ راست دکھانا شروع کی اور پانچ منٹ دکھائی۔ ابھی وہ کام کی بات نہیں کر پائے کہ آپ نے چودھری شجاعت کی پریس کانفرنس دکھانا شروع کردی۔ وہ ابھی سلام دعا کررہے تھے کہ آپ نے مولانا فضل الرحمان کا جلسہ دکھانا شروع کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے سب لائیو دکھادیا لیکن کسی کا اصل مدعا نشر نہیں ہوسکا۔

جب سب کے پاس سیٹلائٹ وینز آگئیں تو ریٹنگ حاصل کرنے کا ایک اور نسخہ ڈھونڈا گیا۔ نیوز منیجرز کو تحقیق سے معلوم ہوا کہ بریکنگ نیوز کا میوزک نشر ہونے سے عوام متوجہ ہوجاتے ہیں۔ ریٹنگ تھوڑی سی اوپر چلی جاتی ہے۔ چنانچہ بلیٹن پروڈیوسرز کو ہدایت کی گئی کہ ہر اہم غیر اہم خبر بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کی جائے۔ لال ڈبا مسلسل حرکت میں رہے۔ ابتدا میں ایسا ہر نئی خبر کے ساتھ کیا گیا۔ بعد میں پرانی خبریں بھی اسی طرح نشر کی جانے لگیں۔ حد یہ کہ صبح نو بجے کی خبر رات نو بجے بھی بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کی جانے لگی۔

جب ہر چینل نے ایک جیسے ریڈ بکس چلانے شروع کردیے تو ماہرین نے ریٹنگ چارٹس کو مزید غور سے دیکھا۔ انھیں اندازہ ہوا کہ بہت سے لوگ ہیڈلائنز دیکھتے ہیں اور بلیٹن شروع ہونے سے پہلے چلے جاتے ہیں۔ اب فیصلہ ہوا کہ ہیڈلائنز طویل کی جائیں۔ پندرہ سال پہلے ہیڈلائنز ایک منٹ میں ختم ہوجاتی تھیں اور ان میں پانچ خبریں چلتی تھیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ہیڈلائنز آدھے گھنٹے چلتی رہتی تھیں اور پچیس پچیس خبریں شامل ہوتی تھیں۔ میں نے ایسے بہت سے بلیٹن پروڈیوس کئے جن میں ہیڈلائنز اور اشتہار چلانے کے بعد کوئی خبر نشر کرنے کا وقت نہیں ملا۔
مجھے پاکستانی میڈیا سے دور ہوئے دو سال ہوچکے ہیں اس لیے تازہ فیصلوں کے بارے میں نہیں جانتا۔

لیکن میرا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور ریٹ ریس پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب جو لال ڈبے اور لمبی ہیڈلائنز باقی ہیں، انھیں اچھے وقتوں کی یادگار سمجھیں۔ نیوز چینل مقابلے کے بجائے ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر تیار ہیں۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ چینل مالکان ایونٹس کی پول کوریج کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ اخراجات گھٹائے جاسکیں۔

Sunday, February 16, 2020

Writings Course Jang Taleem!

How to prepare themselves for freelancing

https://jang.com.pk/news/700223-freelancer

Importance of words

https://jang.com.pk/news/693266-importance-of-words

Pay attention to writing

https://jang.com.pk/news/597318-pay-attention-to-writing

How to write a story

https://jang.com.pk/news/679501-how-to-write-a-story

How to improve your handwriting

https://jang.com.pk/news/665654-how-to-improve-hand-writing

Script writing for drama

https://jang.com.pk/news/658992-script-writing

How to write script

https://www.google.com/amp/s/jang.com.pk/amp/559782?espv=1

Emotional intelligence

https://jang.com.pk/news/691236-emotional-intelligence

How to increase our vocabulary

https://jang.com.pk/news/691235-vocabulary

How to prepare articles and assignments

https://jang.com.pk/news/665659-how-to-prepare-articles-and-assignments

How to write an article

https://jang.com.pk/news/663299-how-to-write-an-article

Art of speech

https://jang.com.pk/news/663298-art-of-speech

Freelancers and their future

https://jang.com.pk/news/782985

Digitalization

Power Point Presentation

https://jang.com.pk/news/621251-powerpoint-presentation

Usage of twitter

https://jang.com.pk/news/636072-usage-of-twitter

Photography specialization

https://jang.com.pk/news/636076-specialization-in-photography

The skills needed for success in digital media

https://jang.com.pk/news/656402-digital-media

Voice over artist

https://jang.com.pk/news/653619-voice-over-artist

Artificial intelligence

https://jang.com.pk/news/654039-artificial-intelligence

Career in film production

https://jang.com.pk/news/618675-cinematography-and-film-production

Animation courses after intermediate

https://jang.com.pk/news/707941-animation-courses-after-intermediate

What is project management

https://jang.com.pk/news/679500

Public relations specialist

https://jang.com.pk/news/672232-public-relations-specialist

Excessive use of internet

https://jang.com.pk/news/670001-excessive-use-of-the-internet

How to become a brand manager

https://jang.com.pk/news/733835

https://jang.com.pk/news/698591-do-not-search-these-things-on-google

https://jang.com.pk/news/696500-social-media-and-our-thinking

Wednesday, February 12, 2020

Special Report JANG Newspaper

Karachi sanwar jai

https://jang.com.pk/news/732986-karachi-city

Rehne lage hai wehasaht Subha Sham

https://jang.com.pk/news/758780?_ga=2.203317976.850260362.1586968886-1148464595.1571042196

parliman or circus

https://jang.com.pk/amp/945611-national-assembly

* https://jang.com.pk/writer/rizwan-ahmed-tariq

exam shedule

https://jang.com.pk/amp/945602-education

digital allama iqbal open uni

https://jang.com.pk/amp/945601-allama-iqbal-open-university
............................
author

https://jang.com.pk/writer/farooq-aqdas