Saturday, February 16, 2019

Raf ul Eidein

سوال: میرا سوال رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین کی متواتر صحیح حدیث کے بارے میں ہے، یہ حدیث صحیح ہے، جو کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، اور ابو داود میں موجود ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ احناف اس حدیث کو قبول نہیں کرتے؟ اس حدیث کو مسترد کرنے کی کیا وجہ ہے؟ 
اسی موضوع سے متعلق ایک اور سوال ہے کہ کیا یہ حدیث اس وقت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو نہیں پہنچی تھی؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

سائل نے جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے، اس کے الفاظ بخاری: (735) اور مسلم: (390)  میں اس طرح ہیں: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو  کندھوں تک اٹھاتے، جس وقت رکوع کرتے اس وقت بھی، اور جب  رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت بھی کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے [رفع الیدین کرتے]۔

اس حدیث پر جمہور علمائے کرام نے عمل کیا ہے، چنانچہ انہوں نے  حدیث میں مذکور  ان جگہوں پر نمازی کیلئے رفع الیدین کرنے کو مستحب کہا ہے۔

بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلے کے متعلق ایک الگ سے کتاب بھی تصنیف کی ہے، اور اس کا نام رکھا ہے: "جزء رفع الیدین" انہوں نے اس میں ان دونوں جگہوں پر رفع الیدین کرنے کو ثابت کیا ہے، اور اس موقف کی مخالفت کرنے والوں کی سختی سے تردید کی ہے۔

چنانچہ  اسی جزء رفع الیدین میں نقل کیا ہے کہ : حسن [بصری] رحمہ اللہ کہتے ہیں:  "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام  نماز میں رکوع جاتے  ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کیا کرتے تھے"
امام بخاری اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: "حسن بصری نے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا، اور نہ ہی کسی صحابی سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے رفع الیدین نہیں کیا ہو" انتہی
دیکھیں: "المجموع" از نووی: (3/399-406)

جبکہ رفع الیدین کی احادیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو پہنچی تھی یا نہیں تو اس بارے میں ہمیں علم نہیں ہے، تاہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پیروکاروں کا ضرور پہنچی ہیں، لیکن پھر بھی انہوں نے ان احادیث پر عمل نہیں کیا،  اس کی وجہ یہ ہے کہ  رفع الیدین والی احادیث  دیگر  ان احادیث سے معارض  ہیں جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ  رفع الیدین   چھوڑنے کا ذکر ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:

- ابو داود (479) نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو  کانوں تک  اٹھاتے، اور پھر ایسا نہ کرتےتھے ۔

- ابو داود (748) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں : "کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟" تو انہوں نے نماز پڑھائی،  اور انہوں نے صرف ایک بار رفع الیدین کیا۔
مزید کیلئے دیکھیں: "نصب  الرایہ "از زیلعی: (1/393-407)

لیکن ان احادیث کو  محدثین  اور حفاظ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔

چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث کو سفیان بن عیینہ ، شافعی، امام بخاری کے استاد حمیدی،  احمد بن حنبل، یحیی بن معین، دارمی، اور امام بخاری سمیت دیگر ائمہ کرام رحمہم اللہ جمیعا نے  اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو عبد اللہ بن مبارک، احمد بن حنبل، بخاری، بیہقی، اور دارقطنی سمیت  متعدد علمائے کرام رحمہم اللہ جمیعا نے  ضعیف قرار دیا ہے۔

اسی طرح کچھ صحابہ کرام سے ترک رفع الیدین سے متعلق  مروی  آثار بھی ضعیف  ہیں، جیسے کہ پہلے امام بخاری رحمہ اللہ سے  یہ قول گزر چکا ہے کہ: "نبی صلی  اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہوتا  کہ انہوں نے رفع الیدین  نہیں کیا" انتہی
دیکھیں:  "تلخیص الحبیر" از حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (1/221-223)

چنانچہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ ترکِ رفع الیدین کے بارے میں تمام احادیث اور  آثار  ضعیف ہیں ، تو وہی احادیث رہ جاتی ہیں کہ  جن میں رفع الیدین  کرنا ثابت ہے، اور ان کی مخالفت میں کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔

اس لیے مؤمن کا شعار یہی ہونا چاہیے کہ  احادیث میں ذکر کردہ  جگہوں پر رفع الیدین کرے، اور  بھر پور کوشش کرے کہ اپنی نماز ، نبوی نماز کی طرح بنائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے) بخاری: (631)

یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد علی بن مدینی  رحمہ اللہ کہتے تھے:
"مسلمانوں کا یہ حق بنتا ہے کہ رکوع میں جاتے ہوئے، اور رکوع سے اٹھتے ہوئے  رفع الیدین کریں"

اور انہی کے بارے میں امام بخاری کہتے ہیں: "علی بن مدینی اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم تھے"

چنانچہ  سنت ثابت اور واضح ہونے کے  بعد کسی عالم کی تقلید کرتے ہوئے  سنت ترک کرنا بالکل جائز نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
"تمام علمائے کرام کا  اس بات پر اجماع ہے کہ   جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ادراک ہو جائےتو  پھر اس کے لئے اس سنت کو کسی  غیر کے قول  کی وجہ سے چھوڑ دینا جائز نہیں ہے" انتہی
"مدارج السالکین": (2/335)

"اور اگر کوئی شخص  ابو حنیفہ، مالک، شافعی، یا احمد بن حنبل رحمہم اللہ جمیعا کا پیروکار ہو ، اور کچھ مسائل میں اسے یہ محسوس ہو کہ  دوسروں کا موقف زیادہ قوی ہے، اور اسی کو اپنا لے ، تو یہ اچھا اقدام ہے، اس  وجہ سے اس کی دینداری میں بالاتفاق کوئی کمی واقع نہیں ہوگی،  بلکہ ایسا کرنا واجب ، اور اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پسندیدہ بھی ہے" انتہی
یہ بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے "مجموع الفتاوی"(22/247) میں کہی ہے۔

اور ایسے علمائے کرام کیلئے ہم عذر تلاش کرینگے جنہوں نے رفع الیدین نہ کرنے کا  موقف اپنایا، کیونکہ انہوں نے اپنا اجتہاد کیا، اس لیے انہیں اپنے اجتہاد کی وجہ سے  اجر ملے گا، اور حق تلاش کرنے پر ثواب بھی ہوگا، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی جب فیصلہ کرتے ہوئے پوری محنت و کوشش کرے، اور درست فیصلہ صادر  کر دے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اور اگر فیصلہ کرتے ہوئے خوب محنت و کوشش کے با وجود غلطی ہو جائے تو اسے ایک اجر ملے گا) بخاری: (7352) مسلم: (1716)
مزید کیلئے دیکھیں: "رفع الملام عن الأئمة الأعلام " از ابن تیمیہ رحمہ اللہ

تنبیہ:

ایک چوتھی جگہ بھی ہے جہاں نماز  میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے،  اور وہ ہے دوسری رکعت کے بعد تشہد سے  تیسری رکعت کیلئے اٹھتے وقترفع الیدین کرنا، اس بارے میں مزید وضاحت کیلئے سوال نمبر: (3667) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اللہ تعالی ہم سب کو تلاشِ حق، اور اتباعِ حق کی توفیق دے۔

واللہ اعلم.

Thursday, February 14, 2019

محبت کا انجام بھی نِرالا ہے

محبت کا انجام بھی نِرالا ہے

بزرگوں کی باتیں ذہن کے قرطاس پر نقش ہوجاتی ہیں۔ ایک مشہور مقولہ ہے ’’آنکھوں دیکھے مکھّی نگلنا۔‘‘ محبت کرنا بھی بالکل اسی طرح ہے جیسے آپ آنکھوں دیکھے مکھّی نگل رہے ہوں۔ محبت میں کسی قسم کا مشاہدہ، تجربہ کام نہیں آتا، نہ ہی ماہرین سے رائے لی جاسکتی ہے۔ یہ تو اس زہریلے سانپ کی مانند ہے جو ساری کی ساری معقولیت کو ڈس لیتا ہے، جس بنا پر عقل اس کے جواز میں عقلی تعبیریں گھڑنا شروع کردیتی ہے۔

ویسے تو محبت میں پڑنا ایک احمقانہ عمل اور سراسر وقت کا ضیاع ہے۔ پڑھیے، لکھیے اور قابل انسان بنیے؛ لیکن ہم اتنے شریف تو نہیں کہ کسی نے منع کیا تو ہم نہ کریں۔ ایسا کام تو ہمیں ہر صورت کرنا ہے۔ اگر محبت کرنی ہے تو اس کا انجام بھی جان لینا چاہیے۔ وہ کہاوت تو سُنی ہوگی کہ حُور کے پہلو میں لنگور۔ بعض اوقات تو یہ بھی نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ حُور کے پہلو میں اکثر لنگوروں ہی کو کیوں باندھ دیا جاتا ہے؛ ورنہ آج کل تو کوئی مفت میں کوئی خربوزه نہیں دیتا، دل دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ استخاروں میں ”ہاں“ جب ہی آتا ہے جب مرد امیر ہو، ورنہ تو ”نہیں“ مقدر بن چکی ہے۔

خیر چلیے، محبت کے انجام کی جانب چلتے ہیں۔ دراصل محبت میں پہل بھی مرد کو کرنی پڑتی ہے۔ شروع میں محبت چیونگم کی مانند ہوتی ہے، جسے بعد میں پھینکنے کو جی کرتا ہے۔ لیکن جب محبت کریں گے، تو انجام بھی بھگتنا پڑے گا۔ لڑکیوں کی چھٹی حِس بڑی تیز ہوتی ہے۔ یہ ہر بات کو پہلے ہی سمجھ جاتی ہیں۔ فرض کیجیے اگر لڑکا کہے کہ اقراء میں تمہیں میسج پر کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن ہمت نہیں ہوئی مگر اب تمہیں سامنے دیکھ کر میری ہمت نے جواب دے دیا ہے۔ اب اقراء کو سب کچھ پتا ہوتا ہے، لیکن ڈھیٹ اس قدر ہوتی ہے کہ مجال ہے کہ ایک لفظ بھی خود بول دے۔

پھر اقراء کی زبان سے اگلا جملہ یہ نکلتا ہے ’’ہاں ہاں بتاؤ، ہم دونوں تو بہت اچھے دوست ہیں۔‘‘

لڑکا: ’’تم میری بات کا برا تو نہیں مانو گی؟‘‘

اقراء: ’’میں بالکل بھی تمہاری بات کا برا نہیں مانوں گی۔“

پھر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں لڑکا اظہار کردیتا ہے۔ لیکن اقراء ایسی انجان بن جاتی ہے جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔ وہ مِن و عَن کھلی زبان میں الفاظ سننے کی چاہ میں ہوتی ہے۔ لہذا آخر پھر یہ سننے کو ملتا ہے، ’’میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔‘‘ اب بیچارہ لڑکا، جس کی زبان پہلے ہی لکنت کا شکار تھی، دِل میں خواہش کو دبا کر رکھ لیتا ہے… اور اب یہ محبت بھی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

ایک بات آپ نے کہیں نہیں سنی ہوگی مگر اب سن لیجیے، وہ یہ کہ ‏میٹھا خربوزہ، خاموش بیوی، اچھی پھوپھو، معقول رشتے دار اور سچی محبت نصیب والوں کو ہی ملتی ہے۔ اگر سچی محبت مل بھی جائے، تو یک طرفہ نہ ہو۔ کچھ یوں ہوا کہ ہمارے ایک دوست کو ایک لڑکی سے عشق ہوگیا تھا۔ ویسے تو ان کو ہر کسی سے عشق ہوجاتا ہے مگر اس لڑکی سے صحیح والا عشق ہوگیا تھا۔ موصوف روز اس کا ایک قصہ ضرور سناتے تھے۔ محبوبہ کی خوبصورتی اور ادائیں اتنی تفصیل سے بیان کرتے کہ سامنے والے کو بھی عشق ہوجائے۔

ہم بھی یہ قصے سُن سُن کر پک چکے تھے؛ اور تجسس میں بھی مبتلا ہوچکے تھے۔ البتہ اتنی کہانیاں سننے کے بعد بالآخر یہ پوچھ ہی لیا کہ بھائی! تم جس کے اتنے قصیدے سناتے ہو، وہ دیکھنے میں کیسی ہے؟ تب انکشاف ہوا کہ بھئی یہ محبت تو یک طرفہ تھی؛ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ جس کی تعریفیں سُن سُن کر ہم اسے حسینہ عالم (مس ورلڈ) سمجھ بیٹھے تھے، وہ لڑکی ’’آئی فون کے ڈبے میں نوکیا 3310‘‘ کی مانند تھی۔ اسے دیکھ کر ہمیں لگا کہ شاید ہماری نظریں کمزور ہیں یا ہم اندھے ہوچکے ہیں۔ بالآخر جس لڑکی کےلیے وہ اتاولے ہورہے تھے، اس نے اب تک ہمارے دوست کو منہ تک نہیں لگایا۔ اب یہاں منہ لگانے سے مراد وہ نہیں، جو فرانسیسی لوگ لگاتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اپنے دوست کو نصیحت کی، ’’اگر آپ کو محبت کا جرثومہ ضرورت سے زیادہ تنگ کررہا ہے، تو بھی اس بات کا خیال ضرور رکھیے کہ یہ بیماری یک طرفہ ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ اسی طرح ان کی محبت کا بھی انجام نرالا ہوا۔

آپ اب تک محبت کرنے کے انجام کے بارے میں جان ہی چکے ہیں لیکن محبت کو انجام تک پہنچنے میں بھی کئی دشواریاں پیش آتی ہیں، جو آپ کو اس کے خوفناک انجام سے قدم قدم پر خبردار کرتی رہیں گی۔ محبت اور پولیو، دونوں ہی وہ خطرناک بیماریاں ہیں جن کا غم ساری زندگی رہتا ہے۔

البتہ، اگر عشق کی بیماری ’’انجام بخیر‘‘ والے انداز میں ساری زندگی کےلیے ’’لاحق‘‘ ہوجائے تو چند ہی دِنوں میں آپ کو اپنے اندر کی خامیاں پتا لگ جائیں گی۔ اس دوران آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ آپ کتنے خود غرض ہیں: مجھے تو چھوڑ کر ہی چلے گئے تھے، میری تو آپ کو فکر ہی نہیں، میں نے آپ کو سموسے کے ساتھ چٹنی لانے کا کہا تھا، آپ نے یہ کیسا پرفیوم لگا لیا ہے… یہ تمام باتیں تو بندہ خاموشی سے سہ لیتا ہے۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی اطمینان سے استعمال نہیں کرسکتا۔ بار بار یہ طعنہ ملتا ہے کہ آپ تو بہت دیر رات تک ’’ایکٹیو‘‘ (Active) تھے؛ اور میں نے میسج کیا تھا تو میسج پر نیلے نشان بھی آگئے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ کا جواب نہیں آیا۔ میں تو سیدھی سادی لڑکی ہوں ناں، تو آپ مجھے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ میرا دل تو بہت بڑا ہے، جب ہی سب کا خیال کرتی ہوں، اس لیے میری کسی کو قدر نہیں۔ بھلے میں کتنی ہی پریشان کیوں نہ ہوں، دوسروں کا دل بہلانے کےلیے ہنسی مذاق کرلیتی ہوں۔

محبت میں تو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا بے حد اہم ہوتا ہے۔ اس مواصلات کے رشتے کو قائم رکھنے کےلیے مرد حضرات سب سے پہلے ایک سستی سے ہینڈ فری خرید لیتے ہیں؛ اور خواتین کسی اچھے نیٹ ورک والی سِم خرید لیتی ہیں تاکہ کہیں پر بھی ہوں، رابطہ منقطع نہ ہو۔ زیاده مسئلہ مرد حضرات کے ساتھ ہوتا ہے کہ جس نیٹ ورک کی سِم محبوبہ نے خریدی ہے، اس نیٹ ورک کے سستے پیکیچز تلاش کرنے میں وہ دماغ صَرف کرتے ہیں۔ اب سستے پیکچز مل جائیں تو یہ بات پریشان کرتی ہے کہ کال کروں یا واٹس ایپ پر میسج کرلوں؟ کال کروں گا تو منٹس ضائع ہوجائیں گے، اور اگر ڈیٹا آن کرکے واٹس ایپ پر میسج کروں گا تو پیکیج کے ساتھ ملنے والا اضافی ڈیٹا ضائع ہوجائے گا۔ بس! اسی کشمکش میں کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے۔

اگر آپ یہ سب انجام بھگتنے کو تیار ہیں تو شوقِ محبت فرمائیے لیکن بعد میں ہم سے شکایت نہ کیجیے گا کہ ہم تو اندھے کنویں میں کودنے چلے تھے، آپ نے کیوں نہیں روکا؟ ویسے بھی جسے ہر روز خودکشی کرنے کا شوق ہے، اسے روکنا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے!

خطیب احمد

https://www.express.pk/story/1551171/464/