Tuesday, January 15, 2019

گداگری نہیں گدھاگری!.


#personalwritings

گداگری نہیں گدھاگری

خطیب احمد

ہنر میں بھی مشقت کے مدارج کو طے کرنے کے بعد انسان کو مہارت حاصل ہوتی ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ اعتماد اور پختگی بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ بچپن سے لے کر اب تک ہم وہ تمام چیزیں دیکھ رہے ہیں، جو مسلسل اب تک ہو رہی ہیں۔ ان چیزوں میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بار بار ایک دل کو اوجھل کردینے والا خیال ستا رہا تھا کہ ملک میں گداگری کا پیشہ اس قدر فروغ پارہا ہے، تو اس پر بھی کچھ قلم آزمائی کی جاۓ۔ کیونکہ اکثریت اس میں ڈرامے باز ہوتے ہیں یا یہ مُنظم گروہ کی شکل میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ گداگر کمال کے کلاکار ہوتے ہیں، جو خیرات کے مُستحق نہیں ہوتے بلکہ اصل حق داروں کا بھی حق مار لیتے ہیں۔ عوام کو اس قدر چالاکی کے ساتھ یہ گداگر گدھا بنا کر چلے جاتے ہیں کہ عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے۔

ابھی اس بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک خبر پڑھی۔ جس میں ایک سیاسی جماعت نے اپنی مخالف سیاسی جماعت کی حسد میں اسمبلی میں ایک قرارداد جمع کردی۔ ویسے تو اسمبلی میں جو  قراردادیں پیش کی جاتیں ہیں، وہ قانون سازی، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی نیا قانون بنایا جاتا ہے تو اس پر اراکین اسمبلی کی منظوری بعد ہی عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ اب وہ بات الگ ہے ہمارے ہاں سرے سے ہی عمل کرنے والا عنصر ہی نہیں ہے۔ ہاں تو بات ہورہی تھی قرارداد کی، جوکہ اسمبلی میں حکومت کو مبارکباد دینے کی غرض سے طنزیہ طور پر جمع کروائی گئی تھی۔  جس کا متن تھا کہ پاکستان میں کوئی شعبہ ترقی کرے یا نہ کرے لیکن گدھے وافر مقدار میں پاکستان میں موجود ہیں۔ اب سیاستدانوں کی عقل کو بھی کوسنے کو جی کرتا ہے کیونکہ ایسی قرارداد پیش کرتے، جس میں کوئی عوام کی فلاح کام ہوتا، نہیں کیا ہی نرالی قرارداد پیش کی گئی۔ عوام ویسے ہی ان گداگروں سے پریشان تھی، انھوں نے عوام کو گدھاگری جیسے نئے چکر میں ڈال دیا۔

جب یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی گئی تھی، تو یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ جبکہ قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ ملک میں اس وقت 53 لاکھ گدھے پاۓ جاتے ہیں۔ جبکہ محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور  میں گدھوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے؛ اور لاہور شہر میں گدھوں کی تعداد اس وقت تقریباً 41 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ اب یہ وہ واحد ترقی ہے، جس پر رویا جاۓ یا ہنسا جاۓ یہ کہنا تو مشکل ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے پاکستان ترقی کر رہا ہے۔  اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ لاہور کے حوالے سے تو سوشل میڈیا پر اس قدر مذاق بنایا جاتا ہے کہ لاہور کی بریانی گدھوں کی ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ بریانی گدھوں کی ہوتی تو گدھوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوتا۔ گدھوں کی تعداد میں کمی واقع ہونے چاہیے تھی۔

خیر اب یہ سفید خاکستری رنگ کا جانور، جو گھوڑے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ بیچارہ صرف بوجھ لادنے کے کام آتا ہے۔ آج کل تو ہمارے ہاں گدھے جیسے معصوم محنتی جانور سے  محنت و مشقت کروائی جاتی ہے؛ اور اس بیچارے جانور کو آۓ روز ہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے لیے بطور گالی استعمال کرتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ معصوم جانور انسان کےکام تو آتا ہے مگر انسان اس پر سوار ہونے میں جھجھکتا ہے۔ اکثر شادیوں پر بھی دولہا گھوڑے پر سوار ہوتا ہے، اگر گدھے پر سوار ہوجاۓ گا، تو لڑکی والوں کو پہچاننے میں دشواری ہوگی کہ دولہا کونسا ہے۔ کیونکہ دونوں ہی سج سنوار کے آتے ہیں۔

ویسے تو ہمارے سیاستدان بھی ان گدھوں کی مانند ہیں۔ کیونکہ گدھوں کی خوبی یہ بھی ہے کہ جب بھی بولتے ہیں ”ڈھینچوں ڈھینچوں“ ہی بولتے ہیں۔  بلکل اسی طرح ہمارے سیاستدان کوئی بھی کام عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوۓ نہیں کرتے بلکہ اپنے مفاد کے لیے کرتے ہیں۔ بیچاری عوام ان کے ہاتھوں پس رہی ہے۔  عوام کو چاہیے کہ گدھوں کی اقسام میں تفریق کرنا سیکھ لے کیونکہ یہ دو ٹانگوں والے بھی ہوتے ہیں۔ البتہ ابھی گدھوں کی تعداد میں ہمارے ملک کا تیسرا نمبر ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو ایسے گدھوں کی تعداد مزید بڑھ گئی، تو ہمارے ملک کا گدھا گری میں اول نمبر ہوگا۔

Saturday, January 5, 2019

فیمینیزم کس آفت کا نام ہے؟ ..

فیمینیزم کس آفت کا نام ہے؟

اعتقاد کے سُتون سے لپٹے ہر انسان کو سوال کرنے کا حق ہے تاکہ وہ ہر زوایے سے حقائق کو جان کر صحيح غلط میں تفریق کر سکے۔ معاشرے کی ارتقاء سے لے کر اب تک مَرد و زن کے کے درمیان دوریاں قائم ہیں۔ اِن دوریوں کی بنا پر عورت پر مرد کو فوقیت دی گئی؛ اور جسے دور حاضر میں اجاگر کر کے ”فیمینِیزم“ کا نام دیا گیا۔ اس بات پر زور دیا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو منصفانہ حقوق نہیں ملتے۔ اب چلیئے یہ جان لیتے ہیں کہ ”فیمینِیزم“ کس آفت کا نام ہے۔

بنیادی طور پر فیمینِیزم ایک نظریے کا نام ہے کہ خواتین کو بھی وہ ہی حقوق ملیں، جو مردوں کو ملتے ہیں۔ وہ حقوق تعلیمی، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے ہوں، غرض کہ حقوق کی تقسیم کو یقینی بنایا جاۓ۔ فیمینِیزم کے بعد اس بات کو بھی جاننا اہم ہے کہ آخر یہ فیمِنسٹ خواتین ہوتی کیسی ہیں۔ آپ کے ذہن میں اس وقت یہ خیال آرہا ہوگا کہ یہ وہ خواتین ہوتی ہیں، جو چُست کپڑے پہنتی ہیں؛ اور ہر وقت دستیاب ہوتی ہیں، جن سے غیر ذمے درانہ رشتہ قائم کر کے جنسی کج روی کی جاسکتی ہے۔ یہ گالم گلوچ بھی کرتی ہونگی، سگريٹ، شراب بھی پیتی ہونگی۔ مردوں کو اپنے سے کم تر سمجھ کر ان کی طرح معاشرتی طور پر وہ تمام کام کرتی ہونگی، جو مرد کرتے ہیں۔

اگر اب اصل ”فیمنِسٹ“ خواتین کی بات کی جاۓ، تو وہ شراب، سگريٹ اور گالم گلوچ کے بغیر اعتماد کے ساتھ خود کو فیمنِسٹ کہہ سکتی ہیں۔ انھیں وہ تمام حقوق ملنے چاہیں، جو مرد کو دئیے جاتے ہیں۔ فیمنِسٹ ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے؛ اور  ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ مرد کو نیچا دیکھائیں یا ان کے خلاف ہیں بلکہ ان کو مرد کے شانہ بشانہ چلنا ہوتا ہے۔

لیکن ہم نے خودساختہ طور پر ایک اپنا نظریہ بنا لیا ہے۔ فیمنِسٹ عورتيں سگريٹ، شراب نوشی، چُست کپڑے پہنتی ہونگی۔ جبکہ سگريٹ، شراب نوشی اور کسی بھی طرح کے کپڑے ذیب تن کرنا کسی بھی فردِ واحد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ سوچ بلکل اس کے برعکس ہے کہ یہ کام صرف مرد ہی کر سکتے ہیں۔ محض کپڑوں کی بنا پر کسی کو پرکھنے کے بجائے اس کی سوچ کو سمجھا جاۓ۔ ترقی پسندی انسان کے کپڑوں سے نہیں سوچ ہونا بے حد ضروری ہے۔ خواتین کے حقوق، شخصی آزادی ان کا نظریہ وغیر وغیرہ! آزادی اظہار راۓ کا سب کو حق حاصل ہے۔ لیکن اس کو غلط سمت میں لے جانا بلکل غلط ہے۔ 

لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں خواتین نے فیمینِیزم کو نیا چہرہ دے دیا ہے۔ اگر خواتین کو حقوق نہیں مل رہے، تو اس حوالے سے قانون سازی کی جاۓ۔ مگر افسوس انھوں نے تمام مردوں کو ایک صف میں کھڑا کر تہمتوں کی بارش کردی ہے۔

خطیب احمد