Monday, July 23, 2018

دہشتگردی پر سوال کرنا ممنوع ہے

تحریر : خطیب احمد

بار بار ہر جگہ یہی سوال سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ کونسا ہے؟ لیکن ہم آج بھی اس سوچ میں گم ہیں کہ آیا پاکستان  کا سب سے بڑا مسلہ کونسا ہے؟، تو صاحب پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ دہشتگردی ہے۔ دہشت گردی پاکستان کے چند بڑے مسائل میں سے ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔ جس نے پاکستان کو داخلی اور خارجی طور پر بہت کمزور کیا۔ آج بھی ہم ملک میں امن امان کے متلاشی ہیں۔ کیونکہ جہاں دہشتگردی کے واقعات میں کئی بچے یتیم ہوگئے ،عورتيں بیوہ ہوگئی، بہنوں سے بھائی چھن گیا ،بھائیوں کا بھائی چھن گیا، ماں باپ کا سہارا ٹوٹ گیا۔ جبکہ بھتہ خوری ، ٹاگٹ کلنگ، فرقہ وارانہ حملوں میں کافی افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

عوام کا تو، بَس یہ ہی معصومانہ سوال ہے کہ اِس لاعلاج بیماری سے کب نجات ملے گی۔ لیکن دہشتگردی پر سوال کرنا تو ممنوع ہے، تشکیکیت کا شِکار ہر راسخ الاعتقاد اِنسان کو سوال کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاکہ وہ سوال کرکے شَک کی گھاٹی میں گِرنے سے بچ جاۓ۔ مگر کریں تو، کیسے کریں؟ یہاں تو سوال کرنا بھی محال ہے۔ سوال کرنا، سمجھیں وبال جان ہوجاتا ہے، بَس اِتنا پوچھ لیں اور گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوجائیں کہ سانحہ مستونگ میں 129 افراد جاں بحق ہوۓ ہیں، تو یہ کم بخت ”ٹوٹی کمر“ میں اتنی جان کہاں سے آئی؟ آخر کمر توڑ دعوٶں کی صداقت پر ہم نے تو یقین کر لیا تھا۔ پھر جواب سُننے کو ملیں گے کہ ” تم ملک دشمن سوچ کے حامل ہو، تم نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا ہے، تم مفاد پرست ہو، تمہیں ملک سے کوئی غرض نہیں ہے، تم تو بَس اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوۓ ہو“۔ اِتنا کچھ کہنے کے بعد بھی کلیجے میں ٹھنڈک نہیں پڑتی تو، اِن نام نہاد مُحب وطنوں کے پاس ایک موٹی تازگی گالی تیار رہتی ہے کہ” تم را کے ایجنٹ ہو“ لے بھائی ہوگیا کام! بچپن سے جوان گئے اب تک را کا نام تک نہیں سنا تھا، اِن لوگوں نے تو ایک پَل میں ایجنٹ بنا دیا۔

ارے بھائی ہمیں آپ کی قربانیوں کا ادراک ہے کہ آپ کن کٹھنائیوں سے گذر رہے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ہم آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سوال کرنا تو ہر شخص کا جمہوری حق ہے۔ ہم نے تو بس اطمینان قلب کے لیے سوال کر لیا تھا، تو چھپی چھپائی دبی ہوئی آوازوں میں غدار، ایجنٹ اور مفسد ہونے کے سرٹیفکیٹ مل گئے۔ آخر یہ سرٹیفکیٹ تقسیم کرتے ہوۓ تھکتے کیوں نہیں؟ اور اپنی بے بنیاد دلیلوں اور اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنا کہاں کی دانشمندی ہے؟،گزشتہ چار پانچ سال پہلے اس قدر بم دھماکے ہوا کرتے تھے، کبھی مسجد ، امام بارگاہ ، ماتمی جلوس، میلاد کی محفلوں پر مگر اب کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات ماننے والی ہے کہ بھئی واہ کیا انداز فاع ہے، بہترین قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا ہے، نام ونمود اور ستائش سے بے پروا ہوکر آپ نے اس ناسور پر قابو پا لیا ہے۔

حضور جان کی امان پاٶں تو، ایک سوال عرض کروں کہ گذشتہ سالوں کی نسبت دہشتگردی کے واقعات میں کمی تو آئی ہے، لیکن وقفے لمبے ہوگئے ہیں اور لاشوں کا تناسب وہ ہی ہے۔ 70, 80 افراد جاں بحق اور زخمی 100 سے تجاوز کر جاتے ہیں۔  واقعات میں کمی درست اصطلاح ہے، مگر اب تک غمی میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ قوم اور سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ تہیہ کر لیں کہ وہ ایسے الفاظ اپنی لغت سے نکال دیں کہ تم ”را کے ایجنٹ ہو، غدار ہو“۔ اِن جملوں سے پرہیز کریں، ہم سب کا قومی اور ملی فریضہ ہے کہ ”ہم سب مل کر دہشتگردی کو شکست دیں گے“  قطع نظر اس بات کے سب وانا للہ انا الیہ راجعون  پڑھتے ہیں لیکن قومی مفاد کے خاطر صبرو تحمل کے ساتھ  مزید حملوں کے لیۓ ہمہ وقت ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔

ہاں ایک بات تو میری سجھ سے بالاتر ہوچکی ہے کہ بھارت میں کسی سیاستدان، صحافی، سماجی کارکن یا عوام میں سے کسی کو یہ نہیں کہا جاتا کہ تم آئ ایس آئی کے ایجنٹ ہو لیکن یہاں تو بھولے بھٹکے سے سوال کرنے پر ہی را کے ایجنٹ ہونے تمغہ ”تمغہ حسن کارکردگی“ کی طرح سینے پر سجا دیا جاتا ہے۔ میری تو وفادار لوگوں سے یہ استدعا ہے کہ اپنے منہ پر تالے لگا لیں، یہ مت پوچھنا کہ یہ کمر ٹوٹے دہشتگرد گرتے پڑتے، کِھسک کِھسک کے کہاں سے آجاتے ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے یہاں نکالو وہاں پھیل جاتے، یہاں مارو وہاں سے نکل آتے ہیں، پھر ختم کون ہورہا ہے؟ اوہو پھر بھی کتنے سوال ہیں۔ جس وقت قوم کو متحد ہونا چاہیۓ اس وقت تم کتنے سوال کرتے ہو، کہیں تم را کے ایجنٹ تو نہیں؟

*براہ مہربانی اِس بلاگ کو کسی شخص، ادارے پر طنز نہ سمجھا جائے، نہ ہی یہ کوئی غیر سنجیدہ تحریر ہے۔ یہ دعا ہےکہ کے اللہ تعالی وطن عزیر کو مستحکم ملک بنا دے اور افواج کو دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ میں فتح نصیب فرماۓ، آمین۔*

اِشاعت:

http://blogs.dunyanews.tv/urdu/?p=7628

Friday, July 13, 2018

صادقِ آلِ اطہار

صادقِ آلِ اطہار

تحریر: خطیب احمد

وہ ستارہ نہیں، بلکہ وہ سورج ہے، جب تم سمجھو گے کہ وہ غروب ہو رہا ہے، عین اُسی وقت کسی اور اُفق پر طلوع ہو رہا ہوگا۔ دنیا کی ساری روشنیاں اسی کے عِلم سے ہیں، اور اس نے اپنے علم سے دنیا کو روشن کر دیا ہے۔ وہ روشنی اور زندگی کا استعارہ ہے، اس نے نوع بشر کے لیئے ایک نئی اُمید کی کرن جگائی ہے۔ یہ فرزندِ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھٹے جانشین امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام علوم دینی اور عُلوم عصری کے بیک وقت حامل، مروج، بانی اور منبع و مرکز تھے۔ آپ ؑ کے وضع کئے ہوئے قواعد اور اصول آج بھی تمام مسالک اور مکاتب فکر کے لیے رہنماء کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے عُلوم سے کسی خاص مکتب ، مسلک ، گروہ یا طبقے نے نہیں بلکہ ہر علِم دوست اور شعور کے حامل اِنسان نے استفادہ کیا ہے۔

آپ سلسلہ امامت کے چھٹے تاجدار ہیں۔ آپ نے اپنے والد گرامی قدر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے براہ راست حُصول علِم اور کسب فیض کیا اور اپنے جد امجد امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اور پیغمبر گرامی قدرصلی اللہ علیہ والہ وسلم  کے عطا کردہ عُلوم سے آگاہی و آشنائی حاصل کی، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دور میں عِلم کا دعوی کرنے والا ہر شخص کو لاجواب کیا اور اسلام کے حوالے سے پھیلائی گئی تمام غلط فہمیوں کو اپنے عِلم کی بنیاد پر دور کیا۔

حضرت امام جعفر صادق ؑ کے عِلم و فضل اور کمال و مرتبے کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ آپ نے عُلوم قرآنی، حدیث رسول ؐ، فرامین آئمہ علیہ سلام اور سِیرت سے اِستفادہ کرکے مسلمانوں کو ابدی اور دائمی رہنمائی اور نجات حاصل کرنے کے لیے ایک ایسی فِقہ ترتیب فرمائی جس میں صرف مسلمان نہیں، بلکہ پوری اِنسانیت کی فلاح و بہبود مضمر ہے۔ اِس کے علاوہ آپ نے عَصری عُلوم کا جو بے بہا خزانہ صاحبان فِکر و نظر کے اِستفادہ کے لیے چھوڑا وہ آج بھی بِلا تفریق مذہب ہر اِنسان کو رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

آپ ؑ کے شاگردوں میں حضرت امام ابو حنیفہ ، امامُ الکیمیاء جابر بن حیان جیسے لوگ شامل تھے۔ جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں اپنے شعبے کے حوالے سے عوام کی رہنمائی کی، دور حاضر کی سائنسی تحقیقات اور عصری عُلوم کا ارتقاء امام جعفر صادق ؑ کا مرہون منت ہے۔ جبکہ عام ٹیکنالوجی سے لے کر ایٹمی ٹیکنالوجی تک تمام کی بنیاد حضرت امام جعفر صادق کے دئیے ہوئے عِلمی ترکے سے ملتی ہے۔

فقہ جعفریہ کے پیروکار اِس لحاظ سے خوش بخت و خوش نصیب ہیں کہ اِنہیں ایسے امام سے تمسک حاصل ہوا ہے کہ جو نہ صرف اِنہیں روحانی، دینی، اسلامی ، فقہی، اور شرعی رہنمائی عطا کرتا ہے بلکہ اِنہیں عصری عُلوم ،کیمیا ، طبیعیات، ریاضی ، فلسفہ ، موجدات، تخلیقات ، لسانیات، اور اِن جیسے متعدد عُلوم اور میدانوں میں ہدایت فرماتا ہے اور اِنہیں اِن عُلوم سے اِستفادہ کے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اگر دور حاضر کے مسلمان بالخصوص عِلم و اسلام سے عقیدت اور ترقی و ٹیکنالوجی سے محبت رکھنے والے انسان حضرت امام جعفر صادق ؑ کے عُلوم ، کردار ، سِیرت اور اصولوں کا مطالعہ کریں، اِن پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور اِن سے مخلصانہ اِستفادہ کریں، تو ایک بار پھر دُنیا میں عِلم کا غلبہ ہوگا اور جہالت کا خاتمہ ہوگا جس سے انسانیت کو درپیش تمام مسائل حل ہوں۔

اشاعت : دنیا نیوز بلاگ

http://blogs.dunyanews.tv/urdu/?p=7494