Wednesday, January 17, 2018

تعلیم

خالق کائنات کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ایک عمدہ قول کسی بڑے دانا کا ہے کہ ” انسان کی زندگی کا منشاء یہ ہے کہ اس کے تمام قوٰی اور جذبات نہایت روشن اور شگفتہ ہوں اور ان میں باہم  نا مناسبت اور تناقص واقع نہ ہو بلکہ سب کا مل کر ایک کامل اور نہایت متناسب مجموعہ ہو“۔ واضح رہے کہ جذبات سوچنے کا کام سرانجام دیتے ہیں اور قوتیں اس سوچ کو عملی شکل دیتی ہیں۔ اگر جذبات اور قوتیں بھرپور ہوں اور دونوں کی آپس میں خوبصورت ترتیب بھی ہو تو ظاہر ہے کہ انسان اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرلیتا ہے۔

انسان کی پہلی درسگاہ اسکا گھر ہوتا ہے، جہاں اسکی پرورش کی جاتی ہے۔ جس سے ایک خاص طرح سے سوچنے اور عمل کرنے کا سلیقہ آجاتا ہے۔نیک عورت کی گود میں پلنے بڑھنے والا بچہ یقینآ ایک اچھا انسان اور بہتر مسلمان ہوتا ہے۔اور یہ بچہ ماں کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس میں عزت نفس ،وفا کشی اور غیرت کی وہ تمام خوبیاں موجود ہوتی ہیں جو خود اس کی ماں میں موجود تھیں۔جہالت دور صرف تعلیم سے نہیں بلکہ پرورش بھی کرتی ہے ورنہ اکثر خاصے تعلیم یافتہ افراد جاہل ہوتے ہیں۔

تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا۔اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے۔ یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور سماج کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے۔ اس دنیا میں ایسے افراد بھی جنم لیتے ہیں۔جن کے نزدیک تعلیم و تہذیب کوئی معنی نہیں  رکھتی وہ حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور اس فانی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔انسان کو دنیا میں برتاؤ کیسا ہونا چاہۓ، اس کے لیے لازمی ہوتا کہ ہمیں علم ہو کہ انسان کیا ہے اور اسکی تخلیق کا کیا مقصد ہے۔

دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ ورنہ حیوان اور جانور میں کوئی فرق نہ رہتا۔تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے۔ اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔

مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔

آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں۔ ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رُسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ بچوں کی تعلیم کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، کیونکہ وہ کم اجرت پر ان بچوں سے کام کروانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے دیہاتی علاقوں میں شرح خواندگی کم ہے۔ جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے۔اسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب سیاستدان تعلیم کے فروغ اور اس کے پھیلاٶ کے خلاف ہیں۔اسکے علاوہ سرکاری حکام بھی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کے تعلیم کی وجہ سے عوام میں شعور پیدا ہوگا اور اس طرح عوام سیاستدانوں اعلیٰ سرکای حکام کا رویہ بے نقاب ہوجاۓ گا۔

مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے۔ مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے۔دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ان کا  دفاعی بجٹ تو اربوں روپے کا ہے، مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں۔ آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے۔صرف علم حاصل کرنا ضروری بلکہ اسکا اطلاق ضروری ہے، اسی طرح صرف خواہش کرنا بلکہ اسکے حصول کے لیے عمل کرنا ضروری ہے۔

ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔

تحریر : خطیب احمد ،کراچی

Tuesday, January 16, 2018

مرچیں کھائیے، لگائیے نہیں

مرچ (Chili Pepper) دیگر نام سبز مرچ، سرخ مرچ،لال مرچ، کالی مرچ مرچی پودوں کی جنس شملہ مرچ سے تعلق رکھنے والا ایک پھل ہے۔ مرچ کی ابتدا امریکہ سے ہوئی۔
مرچ کم از کم 7500 قبل مسیح سے لے کر امریکہ میں انسانی غذا کا ایک حصہ رہا ہے۔ کرسٹوفر کولمبس پہلا یورپی تھا جس نے ان کا سامنا کیا۔

دنیا میں مختلف اقسام کی مرچیں پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے شملہ مرچ خاصی مقبول ہے۔ جو مختلف رنگ میں بازار میں دستیاب ہوتی ہے۔ لال، پیلی، ہری، جامنی، اس کے علاوہ باریک مرچیں اور جنگلی مرچیں روز مرہ کے کھانوں میں عمومًا استعمال کی جاتی ہیں۔ کھانے میں مرچیں نہ ہوں تو کھانے میں لطف نہیں آتا اور باتوں میں مرچیں ہوں تو سامنے والے کا بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے۔

کچھ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے بولتے ہی مرچیں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں ایسی بیماری ہوتی ہے جو دو افراد کے درمیان ایسی بات کرتے ہیں جس وہ لوگ آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ ان کو لڑوا کر تماشہ دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسی باتوں سے ہرہیز کرنا چاہے جو لوگوں کے درمیان دوری پیدا کر دیتی ہیں۔ شیریں الفاظ کا استعمال کریں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا ہو وہ دور جانے کے بجاۓ قریب ہوجائیں۔

جس طرح کھانوں میں مرچوں کی مقدار کو بیلنس رکھنا ایک فن ہے۔ اسی طرح عملی زندگی میں بھی باتوں میں مرچوں کا استعمال متوازن طریقے سے کیا جاۓ تو سننے والے کو لطف آتا ہے۔ اور بات چٹ پٹی ہوجاتی ہے۔یہ نصیحت خصوصاً خواتین کے لیے ہیں۔ جو اکثر اپنی باتوں سے مرچ لگا دیتی ہیں۔ اگر وہ بھی شیریں الفاظ کا استعمال کریں تو مرد حضرات ان کے گرد لٹو کی طرح گھومیں گے۔

بعض اوقات مرچیں کچھ کیے بغیر بھی لگ جاتی ہیں۔ جیسے بہو بڑی اچھی ہو شوہر کا خیال رکھے تو ساس کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی سج سنور کے شوہر کے سامنے جاۓ ، شوہر موبائل میں مصروف ہوں اور تعریف نہ کرے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بیوی لذیذ کھانا پکاۓ اگر شوہر اس میں کوئی خامی نکالے تو بیوی کو مرچیں لگ جاتی ہیں۔

لہذا تمام شوہروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا خاص خیال رکھیں اور مرچیں نہ لگائیں۔ کیونکہ مرچیں بغیر کسی موسم کے سردی گرمی دنوں میں با آسانی لگائی جا سکتی ہیں۔ غنیمت جانے کے آپکی شادی ہوچکی ہے۔ ورنہ تو کہیں ایسا نہ ہو مرچوں کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے رشتے میں دراڑ نہ پڑجاۓ۔

تحریر : خطیب احمد