جو ہر دور کے یزید سے ٹکرا کر اپنے آپ کو منواۓ اسے حسینء کہتےہیں جو اس سےٹکراتا ہے پاش پاش ہوجاتا چاہے فضا میں کیوں نہ ہو۔ یزید نام بدلتا ہے کردار وہ ہی رہتا ہے ابلیس ایک تھا اس کا لشکر اب تک ہے، یزید ایک تھا مگر اسکی #سپاہ اب تک ہے خدا کرے آپ میری بات سمجھ پائیں، وہ بھی مرگیا تیرا بڑا بھی مرگیا حسینء سے ٹکرایا تھا اسکی قبر کا کوئی نشان نہیں کیونکہ حسینء کہتے اسے ہیں جو دشمن اپنے دشمن کا نام و نشان مٹا دے ابو تُرابؑ کا بیٹا ہے تُراب اس کے باپ کی جاگیر آسمان اس کے نانا ؐ کی جاگیر ،اگر تُراب جگہ دے ابو تُراب کی گنہگار آسمان پناہ دےتو اسکے ناناؐ کا گنہگار حسین ء کے دشمن کو تو آگ بھی تلاش کر کے ہی اپنی بھوک مٹاتی ہے میں ان سے مخاطب ہو جو آج بھی یزید کی وکالت کر رہے ہیں جن کے لبوں پر سعود اور یہود کی منقبت ہے