Wednesday, August 30, 2017

اپنا آپ


میں نے دیکھنے کی کوشش کی!  خُواب 😌
پاکستان کا تابناک مستقل 😃
مستقبل کا  لکھاری
اچانک  وہ  آگئی
دیکھ کچھ رہا ہو سوچ کچھ رہا ہوں
اُس نے بھی پہنا کالا رنگ! 😳
میں نے بھی پہنا کالا رنگ!
اُس نے میرے تِل کا رنگ
میں نے اُس کے دل کا رنگ! ۔۔۔ 😔
اور یوں تصویر کھچ گئی 😂

خطیب احمد

Monday, August 28, 2017

پانی کی تلاش


بیت جانے والا ہر پَل ہر لمحہ میرے زہن پر نقش ہوجاتا ہے پیر کا دن تھا بادل چھاۓ ہوۓ سورج کبھی بادلوں میں چھپ جاتا کبھی جلوہ افروز ہوجاتا بارش کی بوندیں زمین پر گرنے کی وجہ سے زمین سے اک مہک اٹھ رہی تھی جو دل و دماغ کو تسکین بخشتی ہے ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین پر کسی نے زمرد بکھرے ہوۓ ہوں ہم تمام دوستوں نے سوچا کیوں نہ اس موسم کا لطف اٹھانے کیلے کچوریاں لے آتے ہیں اور سب ایک ساتھ نوش کریں گے تو مزہ دوبالا ہوجاۓ گا، میں اور میرا ایک دوست کچوریاں لینے بازار کی طرف نکل پڑے آہستہ آہستہ چہل قدمی کرتے ہوۓ ہم دکان پر پہنچے چاچا سے کہا کے ٢٨ کچوریاں دے دیں، چاچا کچوریاں بنانے میں لگے ہم انتظار کر رہے تھے تیل میں ڈوبی کچوریاں اور اس میں اٹھنے والی خوشبو سے جی للچانے لگا میرے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی سوچا کے بھر لو پیاس محسوس ہوگی تو پی لیں گے دکان کے بائیں جانب ایک چاۓ کا ہوٹل تھا تو میں وہاں موجود پانی کے جگ سے پانی بھرنے والا ہی تھا کہ خان صاحب نےآواز دی کے پانی نہ بھرو! میں نےکہا بس ایک بوتل ہی ہے تو انہوں نے جب بھی منع کر دیا میں نے برابر میں ہوٹل سے متصل ایک دکان سے انکل سےکہا پانی ہوگا پینے کا انہوں نے کہا آگے سے بھر لو میں آگے جاکے کُولر سے بھرنے لگا تو وہاں کام کرنے والے لڑکے نے کہا یہاں سے نہیں وہ نَل سے بھر لو میں نے وہاں سے بوتل میں پانی بھر لیا پانی تو بظاہر صاف شفاف لگ رہا تھا پھر میں کچوریاں لینے چاچا کے پاس پہنچا پیسے دئیے اور چل پڑے ہم میں اپنے دوست کو پانی دیا لو پی لو اس نے دیکھ کہا اس میں تو کچرا ہے پھر وہ پانی ہم نے گٹر میں پھینک دیا میں یہ سوچ رہا تھا مانو کہ میں پانی مانگا لیا یا جائیدادمانگ لی جو سب نے اس طرح بے حسی سے منع کر دیا اور بھرنے کو دیا تو وہ بھی صاف نہیں تھا ہم عجب طبیعت کے مالک ہیں ، خلوص ومحبت معاشرے میں ناپید ہوچکی ہے نہ جانے ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں سیدھی بات کرو تو بدتمیز خوش اخلاقی سےپیش آؤ تو ڈپلومیٹ اور اگر کسی سے اختلاف کرو تو بے ادب اور اگر لحاظ کرو تو منافق کتنا بدل گیا ہے انسان۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کی وجہ سے ہ ایک دوسرے کو پانی دینے سے اجتناب کرنے لگے ہیں دراصل صفائی، غذا، کا سارا نظام پانی ہی سے وابستہ ہے روز مرہ کی زندگی میں سارے کام کا دارومدار پانی پر ہے۔ پانی کی اسی ناگزیر یت کے سبب ہر دور میں پانی کے لئے تنازعات ہوتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی کے لئے تنازعات کی تاریخ پانچ ہزار سالہ پرانی ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف آبی ذرائع کے حوالے سے عالمی تنازعات کا سلسلہ ہے بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی بڑی جنگیں پانی کے لئے ہوں گی۔ایک طرف انسانی آبادی کے لئے پانی ناگزیر ہے تو دوسری جانب اس وقت عالمی سطح پر دنیا قلتِ آب کا شکار ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت عالمی آبادی کا گیارہ فیصد یعنی 783 ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا کے دو بلین افراد صاف پانی سے محروم ہے۔ قلتِ آب سے دوچار ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پانی کی قلت سے ملک کے سارے طبقات پریشان ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً اضلاع میں قلتِ آب کی صورتِ حال نیز سندھ کے بہت سے علاقوں سے لوگ احتیاطی طورپر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں بالخصوص’’ تھر‘‘ جو ایک سحرائی علاقہ ۔ کراچی کے بہت سے علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے بڑے بڑے پوش علاقوں میں پانی ٹینکر کے ذریعہ سپلائی کی جارہی ہیں ۔ قلتِ آب کی اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لئے فوری طور پر اسکو حل کرنا ضروری ہے.اﷲ ہم سب پر اپنا خصوصی رحم فرمائے (آمین)

تحریر : خطیب احمد

Friday, August 11, 2017

کیا ہم آزاد ہیں

ہمارا ملک جو کہ 14 اگست 1947ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان چودھری رحمت علی، سرسید احمد خان جیسے بہت سے عظیم رہنمائوں اور ہمارے بزرگوں کی دی گئی قربانیوں اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، آزاد سے مراد ہے ہے کہ خودمختار، لیکن مجھے اس افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم آج بھی ان جاگيرداروں ، وڈیروں ،ظالموں ،جابروں اور بےحس حُکمرانوں کے تابع ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جو کہ 1947ء میں ہم لوگوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ کیا آج یہ وہی پاکستان ہے؟ کیا اس آزاد مملکت میں عدل، انصاف، اُخوت،مساوات کے سُنہرے اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے؟ جس ملک کے سیاستدانوں کی ترقی کا یہ عالم ے کہ جن کی دولت  دن دوگنی رات چوگنی ہوتی ہو ترقی کا دارومدار یہی رہا تو ہم کیسے کہہ سکتے کہ وہ ہی پاکستان ہے باالخصوص ہمارے نوجوانوں کے نزدیک آزادی  کا مقصد فقط بائکوں سے سیلنسرز نکال کر شور وغُل کرنے تک محدود ہے، جن ہری جھنڈیوں کی ہم بات کرتے اکثر یہی ہری جھنڈیاں ہمارے پیروں تلے روندی جارہی ہوتی ہیں اور کوئی اٹھانے والا نہیں  ہوتا تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کیا یہ وہ ہی پاکستان ہے؟ صرف گاڑیوں پر گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگا لینا ہی محب وطن ہونے کا ثبوت نہیں بلکہ ہمیں وطن عزیز کے لئے کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ وطن ہمارا اور ہم نے اسے سنوارنا ہے ہم نے ہی اسے اندھیروں سے نکالنا ہے۔ ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی ہو گی اس کے لئے ہمیں پاکستان سے کرپشن جیسے ناسور کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہو گا جس میں دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی نہ ہو، جہاں غریب کو اس کا حق ملے جہاں مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ملے۔

تحریر : خطیب احمد

لنک:
http://basharat.news/2017/08/13/fetchNews.php?newsname=p4/P4_08.gif

http://www.roznamaurdu.com.pk/15-08-2017/68934

Sunday, August 6, 2017

استاد محترم محسن نقوی شہید


 استاد اسے دنیا میں آگے بڑھنا سکھاتاہے۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہےجسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے ان میں سے ایک محسن نقوی شہید ہیں جنہیں میں اپنا استاد مانتا ہوں! ساتھ ہی اس تصویر میں موجود  محترم بے نظیر بھٹو شہید بھی موجود ہیں جوکہ باہمت باصلاحیت خاتون تھیں۔

#شہید_محسن_نقوی نے اپنی قائد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کیلئے لکھا تھا، میں یہاں پوری نظم نقل کررہا ہوں۔
اے عظیم کبریا
سن غریب کی دعا
سازشوں میں گھر گئی
بنت ارض ایشیا
لشکر یزید میں
اک کنیز کربلا
فیصلے کی منتظر
اک یتیم بے خطا
ٹال سب مصیبتیں
ہے دعا ترے حضور
واسطہ حسین عہ کا
توڑ ظلم کا غرور
یا اللہ، یا رسولؐ
بےنظیر بےقصور