Wednesday, July 26, 2017

تبدیلی

سب سے پہلے یہ بات میرے لیے فرض ہے کہ بلاگ ہو یا ٹویٹ مقصد یہی کہ چند لفظوں میں بات پہنچے اور آپ اختلاف راۓ کا حق رکھ سکتے!

 میں جوکہ تبدیلی چاہتا ہے لیکن تبدیلی کے ساتھ ساتھ مُلک کے حالات کو تبدیل کرنے کا خواش مند ہے اگرچہ میں جانتا ہوں کہ میں تبدیل نہیں کر سکتا لیکن وہ کسی نہ کسی طرح اُس کا حصہ ضرور بننا چاہتا ہوں، مُلک میں کوئی بھی ایسا ادارہ باقی نہیں بچا جس میں اگرمیں اہل ہوں میری تعلیم مکمل ہے تو میں وہاں مناسب پوسٹ پر بہتر طریقے سے بغیر کسی سفارش کے کام کر سکوں پرفارم کر سکوں مُلک میں مُلا راج ہے لوگ جاہل مولویوں کے کہنے پر خواہشات کاورد کِیے جا رہے ہیں جعلی پیروں کی بھر مار ہے ‏یہ افراد عاشق نہیں بلکہ ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو مکروہ اور انسانیت کش ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور بےگناہ انسان  ان مذہبی جنونیوں کی کم عقلی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے جہاں لوگ مذہب کے نام پر جہالت پھیلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور جو بندہ مذہب سے بغاوت کرتا ہے اُسے کافر ڈکلئیر کر کے قتل کر دیا جاتا ہے ضمیر کے  ایک سے بڑھ کر ایک سوداگر معاشرے میں اپنے گُل کھلا رہے ہیں ایسے ایسے واحیات واقعات روز رونما ہوتےہیں جو بغیر کسی سینسر کے نشر ہوئے جاتے ہیں۔

‏در ِافلاک سے کیا جھانکتا ہے؟
زمیں پہ مارا ماری ہورہی ہے!
زمیں پر ایک مُلک ایسا ہے جس میں
غضب کی دینداری ہورہی ہے
#عارف_اشتیاق

تحریر : خطیب احمد