Monday, April 4, 2016

Remembering and understanding the sacrifices of Imam Hussain (AS)



امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور اس کی بقا.                          
شب عاشور، امام بارگاہ میں مجلس عزا سنتے ہوے ایک ہی بات ذہن میں  آرہی تھی کہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو دنیا کس حد تک سمجھ سکی ہے. آج سوشل میڈیا پہ لو گ زور و شور سے عزاداری اور ماتم کے طریقوں پہ تنقید تو بہت کرتے ہیں مگر کیا ان کو امام کی قربانی کا وہ مقام سمجھ آیا جو الله نے ان کو عطا کیا تھا؟ امام حسین کا نام آج دنیا کے کونے کونے میں اپنے اپنے طریقے سے لیا جا رہا ہے، یہ  وہ ہی مظلوم امام تھے جن کو شہید کرنے کے بعد دفن و کفن تک نہیں دیا گیا تھا. آج لوگ عزاداری کو  اپنے اپنے طریقے سے ادا  کرتے ہیں ، کوئی سینہ کوبی کرتا ہے تو کوئی اپنے بچے کو زنجیر زنی کی شروع سے ہی تربیت دیتا ہے .  اور ان ہی رسومات پہ اعتراض کرنے والے کچھ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ امام عالی کا مقام کیا تھا  اور کیا  ہے ؟ ان کی قربانی کو نماز کے بچاؤ تک  محدود کرنے والوں کو کیا علم  ہے کہ اہل اسلام کو امام توحید کا کون سا سبق دیکر گئے ہیں ؟ اسلام کی ہر عبادت کا آغاز جب ہی ہوتا ہے جب کہ آپ کا توحید پے پختہ ایمان ہو .  


امام کی قربانی کے بعد  دنیا میں ایک  ایسا نظریہ وجود میں آیا جو آج تک  مٹ نہیں سکا، وہ نظریہ حسینیت  ہے . حسینیت اللہ پہ مکمل   بھروسہ کر کےظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے .

گزرے دور  یا آج  کے دور میں ہر اس شخص نے  جو کسی مقصد کے لیے جدوجہد  کر رہا تھا چاہے وہ مدر ٹریسا ہو یا مارٹن لوتھر کنگ، نیلسن منڈیلا ہو یا   مہاتما گاندھی  ، سب نے امام حسین کی قربانی کو انسانیت سے تشبیہ دی.  اور فلسفہ حسینیت کی روشنی میں اپنے مقاصد حاصل کیے . آج شیعان حسین کو نماز اور روزے رکھنے کا درس دینے والے کیا  یہ جانتے ہیں کہ امام کی قربانی کی اصل جڑ توحید کی وہ منزل تھی جس میں انھوں نے  کلمے کے پہلے حصّے "لا الہ" پہ عمل کرتے ہوۓکن خداؤں کا انکار کیا،؟ اپنے نفس کے  خداؤں کا . نفس کے ان خداؤں کا جو آپ کو حکومت ، دولت اور طاقت  استعمال کر کے ، جنگیں جیتنے کا درس دیتے ہیں. امام نے کربلا کے بیاباں میں اپنے بچے، بیبیاں ، الله کے بھروسے لے جا کر ، اپنے جوان بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں کی قربانی دے کر بتا دیا تھا کہ میرا الله پر یقین اس قدر بلند ہے کہ میں جانتا ہوں  کہ الله اس قربانی کو خود شایان شان طریقے  سے اپنی نشانی بنالے گا. اگر کوئی امام  کے شب عاشورا کے اس واقعہ سے پوری طرح باخبر نہیں جس میں  جناب حرنے آ کر امام سے معافی طلب کی تھی اور امام نے جواب میں ان کو جنّت کی بشارت دی تھی . اور عمر سعد سے گفتگو میں  امام نے اس کو خبر دی تھی کہ "مجھ کو قتل کر کے تجھ کو ملک رہ  (یعنی عراق ) کی حکومت تو در کنار  ،وہاں کی گندم کھانا بھی نصیب نہیں ہوگی". پسر سعد سے یزید نے وعدہ کیا تھا کہ امام کے قتل کے بعد اس کو رہ کی حکومت نواز دے گا. یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ امام نہ کسی کے حق میں بددعا کر رہے تھے اور نہ ہی دعا  دے رہے تھے بلکہ وہ تو لوگوں کی زندگی اور آخرت کا حال و فیصلہ سنا رہے تھے . ان کے توحید کا درجہ  اور الله پر یقین دیکھتے ہوۓ  رب کریم نے اپنی رضا مکمّل طور پہ  امام کو عطا کردی تھی.

یہاں علامہ اقبال کا ووہ شعر یاد آ گیا
خودی  کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے  بتا تیری رضا کیا ہے .

یہاں مجھے حضرت ابراہیم  یاد آگے ، جن کے الله پر بھروسے کو الله نے کس طرح آزمایا تھا. ایک باپ سے کہا کہ اپنے چھوٹے سے بچے اور بی بی کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر چلے جاؤ اور حضرت چلے گئے ، پھر اس بچے کی پیاس دیکھ کر بی بی صفا و مروہ کے درمیان بھاگیں ، اور آج و ہی صفا و مروہ "شائر الله " ہیں یعنی الله کی نشانیاں  کہلاتی ہیں . ان کے درمیان چلنے اور بھاگنے کو الله نے  ایک عبادت کا درجہ عطا کردیا . حج و عمرہ کا  اہم رکن بنا دیا . اسی طرح ایک دفعہ پھر  جب حضرت ابراہیم سے ان کے بیٹے کی قربانی مانگی اور وہ  اس امتحان پہ پورا اترے تو اس قربانی کے بدلے  ایک دمبہ بھیج کر اس دمبے کو اپنی نشانی قرار دیا اور ان کے عمل  اور دمبے کی قربانی کو رہتی دنیا تک ایک عید  کا دن قرار دیا. تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ک رسول خدا   جن کو رحمت عالمین بنایا اور پھر ان سے  عزیز ترین نواسے کی قربانی مانگ کر اس قربانی  کی یاد کو رہتی دنیا تک قائم نہ رکھتا ؟ حضرت صالح کی اونٹنی کے ساتھ بھی ان کی قوم نے ایسا ہی کیا تھا کہ اس کو مار ڈالا تھا . جب کہ وہ اونٹنی دنیا میں آئ تھی  تو حضرت نے اس کو تنگ نہ کرنے کی ترغیب دی تھی اور اس کو الله کی نشانی قرار دیا تھا.  لیکن اس اونٹنی کے قتل کے بعد قوم پہ پہ توبہ کے دروازے بھی بند کردیے تھےاور ان کو  عذاب  الہی سے تباہ کردیا تھا . جس طرح حضرت ابراہیم کی قربانی  کو اپنی اہم ترین عبادت کا حصہ بنایا  اسی طرح  امام کے توحید کے درجے کو دیکھتے ہوۓ الله نے امام کی زیارات اور عزاداری کا نہ رکنے والا  سلسلہ بھی شروع کروادیا.

امام  کی قربانی  نے عالم اسلام پہ یہ احسان  کیا کہ  خلافت کو بادشاہت اور حکومت سے الگ کردیا.  اگر کل کو امام یہ قربانی دینے کے لیے اپنے بچوں  اور بیبیوں کے  ساتھ  اس سفر کا اہتمام نہ کر تے تو آج عالم اسلام  ایک تذبذب   کا شکار ہوتا اور  ہر اسلامی ملک میں چھوٹے بڑے بادشاہ  اور حکمراںاپنی حکومت کے ساتھ خلافت کا بھی  دعوہ کر رہے  ہوتے . امام کی قربانی کو نماز سے تولنے  والوں نے   اور روز عاشور کو ایک روزے تک محدود کردینےوالوں  نے  کبھی  اس قربانی کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں  . انھوں نے کبھی سوچا کہ ہر آنے والے بادشاہ  اور حاکم نے آخر امام کے زائرین پہ ہی کیوں ظلم ڈھاے؟ آخر تاریخ میں وقفے وقفے سے امام کا ہی روضہ کیوں مسمار کیا جاتا رہا؟ آخر ان کی زیارات پہ پانی کیوں چھوڑ ا گیا  اور پھر وہی نہر فرات کا پانی    جو ان  پہ  تنگ  کر دیا  گیا تھا آج حضرت عباس کی قبر کا طواف کیوں کرتا ہے ؟ لاکھ کوششوں کے باوجود  وہاں سے  یہ پانی نکل کیوں نہیں پایا ؟  تاریخ بتاتی ہے کہ جب امام کا سر نوک سناں پہ  چڑھایا  گیا تھا تو وہ قرآن کی البقرہ  کی ان آیات کی تلاوت کر رہا تھا جن میں الله نے صفا اور مروہ  کو الله کی نشانیاں بتایا ہے.
کبھی آنکھوں سے شیعوں کے لیےبغض اور نفرت کی عینک اتار کر  صحیح تاریخ کا  مطالعہ کریں تو  یہ ضرور سوچیں  کہ امام کی زریت سے پیدا ہونے والے بقیہ ٨ امام کیوں خاموشی سے زہر دے کر شہید کردیے گئے ؟ اولاد  رسول اللّہ کو ہی قید  و بنداور زہر کا نشانہ  کیوں بنایا گیا؟ وہ تمام توگھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنے والے اور خاموشی سے اپنے جد رسول الله  کے دین کا پرچار کرنے والے بندے تھے .

دین اسلام ہی نہیں بلکے پوری  انسانیت پہ  امام حسین کا احسان ہے کہ انھوں نے اس حاکم کا جو کہ تخت پہ بیٹھ کر ظلم و بربریت کی داستانیں لکھ رہا تھا ،  کا چہرہ تمام عالم کے سامنے کھول کر رکھ دیا. ایک ظالم اپنے تخت  کو بچانے کے لیے اس حد تک گر رہا تھا  کہ اس نے امام کے ٣٢ برس کے بھائی سے لیکر ٦ ماہ کے بچے تک کو نہیں بخشا اور امام خاموشی سے ایک ایک قربانی دیتے گئے .

کبھی امام کی عزاداری اور   ماتم کے  طریقے پہ اعتراض کرنے والوں  نے یہ باتیں سوچیں کہ امام چاہتے تو خاموشی کی زندگی اختار کرکے اپنی اولادوں کو بچا سکتے تھے ، اور یہ کہ کیا  دین اسلام کا خلیفہ اتنا جابر ہو سکتا تھا کہ وہ چھوٹےچھوٹےبچوں کو شہید کر کے اور بیبیوں اور بچیوں پہ  یلغار کرتا ؟ کیا اسلام کا سچا خلیفہ کبھی اسلام کو پھیلانے والے نبی کے نواسے کو ایسے قتل کر سکتا تھا ؟ اگر وہ  خلیفہ سچا ہوتا تو اپنا سچ ثابت کرنے اور اسلام کو پر امن  اور یکجا رکھنے کے لیے نبی کے نواسے کو جنگل  میں بلا کر ذبح نہ کرتا . اگر یہ دو  شہزادوں کی جنگ ہوتی تو امام بھی یزید کی طرح اپنا شہر نہ چھوڑتے اور اپنی فوج کو جنگ کے لیے بھیجتے نا کہ معصوم بچوں اور بیبیوں کے ساتھ خود جنگ کرنے جاتے .  

 آج جو سوشل میڈیا پہ بیٹھ کر اپنے آپ  تعلیم یافتہ اور پر امن ظاہر کرنے کےلیے شعیوں کی رسومات کا مذاق اڑانے اور اس پہ اعتراض کرنے کے بجاے  محرم کے مہینے میں اگر ماتم نہیں کرسکتے تو ان کی یاد میں چند اچھے الفاظ ادا کرتے.  اور اگر نہیں کرسکتے تو کم از کم ان پہ  کیچڑ نہ اچھالا کریں جن کو امام کی قربانی اور حیثیت کا اندازہ ہے. ورنہ پچھلے ادوار میں بھی ایسے لوگ بہت گزرے جنہوں نے کبھی ماتم پہ  پابندی لگوائی تو کبھی زیارات تباہ کردیں. کبھی شعیوں کا قتل عام کیا تو کبھی خاموشی سے گاؤں کے گاؤں ختم کردیے اور ان کو اجتمائی قبروں میں دفنا دیا. نہ یہ ظلم ڈھانے سے شیعہ ختم ہوۓ اور نہ ہی ماتم رکا . جو ماتم عراق سے شروع ہو کر عرب اور ایران اور پھر ہندوستان پھچا تھا وہ آج امریکا اور آسٹریلیا اور یورپ کے علاقوں میں پھیل گیا ہے. اور میری نظر میں وہ لوگ جو آج کی طاقتوں  یعنی سوشل میڈیا کو اسستعمال کر کے عزاداری  پہ اعتراض کرتے ہیں وہ اصل میں ان ہی لوگوں کے نقشے قدم پہ چل رہے ہیں جنھوں نے امام کی قربانی اور اس کی اہمیت کو گھٹانے یا کم کرنے کے لیے ہر ادوار میں جھوٹے ہتکنڈوں  کا سہارا لیا .  

وہ شاعر نے خوب کہاتھا

" پانی حسین کا ہے ترائی حسین کی ، دنیا حسین کی ہے خدائی حسین کی "
خطیب احمد